تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 363 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 363

۳۵۳ گاندھی ہے تو سیاسیات کے معاملات میں دخل ہی کیوں دیتا ہے۔وہ صرف اسی لئے دخل دیتا ہے کہ ملک کا اکثر حصہ اس کی بات کو مانتا ہے۔مگر میری بات کو ہنس کر ٹلا دیا گیا اور کہو دیا گیا میں تو صرف گاندھی ہوں اور ایک آدمی ہوں بھالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ وہ نہیں کروڑ کے لیڈر ہیں اور میں ہند وستا کے صرف پانچ لاکھ کا لیڈر ہوں۔کیا میرے کوئی بات کہنے اور تیس کروڑ کے لیڈر کے کوئی بات کہتے میں کوئی فرق نہیں۔بیشک میں پانچ لاکھ کا لیڈر ہوں اور میری جماعت میں مخلصین بھی ہیں جو میری بات تھے۔پرعمل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور مجھے واجب الاطاعت تسلیم کرتے ہیں۔لیکن بہر حال وہ پانچ لاکھ میں اور پانچ لاکھ کے لیڈر اور میں کروڑ کے لیڈر کی آواز ایک سی نہیں ہو سکتی۔تین کروڑ کے لیڈر کی آوان ضرور اثر رکھتی ہے اور فلک کے ایک معتد بہ حصہ پر رکھتی ہے لیکن افسوس کہ وہی گاندھی جو ہمیشہ بسیاسیات میں حصہ لیتے رہتے ہیں میری بات سننے پر تیار نہ ہوئے۔اسی طرح میں پنڈت نہرو کے دروازہ پر گیا اور کہا کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان صلح ہونی نہایت ضروری ہے۔لیکن انہوں نے بھی صرف یہ کہ دیا کہ یہ ٹھیک تو ہے۔۔ہاں آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر اب کیا ہو سکتا ہے ، کیا بن سکتا ہے۔اسی طرح میں نے تمام لیڈروں سے ملاقاتیں کر کر کے سارا زور لگایا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہو جائے مگر افسوس کہ کسی نے میری بات نہ سنتی اور صرف اس لئے نہ سنی کہ میں پانچ لاکھ کا لیڈر تھا اور وہ کروڑوں کے لیڈر تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ملک کے اندر جگہ جگہ فسادات ہو رہے ہیں اور قتل وغارت کا بازار گرم ہے۔اگر یہ لوگ اُس وقت میری بات کو مان جاتے اور صلح صفائی کی کوشش کرتے تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔مگر میری بات کو نہ مانا گیا اور صلح سے پہلو تہی اختیار کی۔اس کے تھوڑے عرصہ بعد بہار اور گڑھ مکتیسر کا واقعہ ہوا۔اور اب پنجاب میں ہو رہا ہے۔اگر اب بھی ان لوگوں کی ذہنی تہیں نہ بدلیں تو یہ فسادات اور بھی بڑھ جائیں گے اور ایسی صورت اختیار کر لیں گے کہ باوجود ہزار کوششوں کے بھی نہ رک سکیں گے۔اس وقت ضرورت صرف ذہنیتیں تبدیل کرنے کی ہے۔اگر آج بھی ہندو ارادہ کر لیں کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی۔آؤ مسلمانو! ہم سے زیادہ سے زیادہ حقوق سے یہ تو آج ہی صلح ہو سکتی ہے اور یہ تمام جھگڑے رفع دفع ہو سکتے ہیں۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ بغض پر بغض کی بنیادیں رکھتے پہلے بھاتے ہیں اور انجام سے بالکل غافل بیٹھے ہیں۔اگر وہ صلح