تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 362
۳۵۱ میں ہندوؤں سے پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمان فی الواقع نالائق ، ناقابل اور نا اہل تھے ؟ اُن کو جب کسی کام کا موقعہ ملا انہوں نے اُسے باحسن سرانجام دیا۔مثلاً سندھ اور بنگال میں اُن کو حکومت کا موقعہ ملا ہے انہوں نے اس کو اچھی طرح سنبھال لیا ہے اور جہانتک حکومت کا سوال ہے ہندوؤں نے ان سے بڑھ کر گونا تیر مار لیا ہے جو انہوں نے نہیں مارا۔مدراس، بمبئی ، یوپی اور بہار وغیرہ میں ہندوؤں کی حکومت ہے جس قسم کی گورنمنٹ ان کی ان علاقوں میں ہے اسی قسم کی گورنمنٹ سندھ اور بنگال میں بھی ہے اگر لڑائی جھگڑے اور فساد وغیرہ کی وجہ سے کسی گورنمنٹ کو نا اہل قرار دینا جائزہ ہے تو لڑائی تو بمبئی میں بھی ہو رہی ہے۔یوپی میں بھی ہو رہی ہے اور بہار میں بھی ہو رہی ہے۔اگرنا اٹھتی اور نا اہلی کی یہی دلیل ہو تو بمبئی ، یوپی اور بہار وغیرہ کی گورنمنٹوں کو کس طرح لائق اور اہل کہا جا سکتا ہے۔اور اگر کسی جگہ قتل و غارت کا ہوتا ہی وہاں کی گورنمنٹ کو نا اہل قرار دینے کا موجب ہو سکتا ہے تو کیوں نہ سب سے پہلے بمبئی اور بہار کی گورنمنٹوں کو نا اہل کہا جائے ایک ہی دلیل کو ایک جگہ استعمال کرنا اور دوسری جگہ نہ کرنا سخت نا انصافی اور بددیانتی ہے۔اگر یہی قاعدہ کلیہ ہو تو سب جگہ یکساں چسپاں کیا جانا چاہئیے نہ کہ جب اپنے گھر کی باری آئے تو اس کو نظر انداز کر دیا جائے کسی علاقہ میں قتل وغارت اور فسادات کا ہونا ضروری نہیں کہ حاکم کی غلطی ہی سے ہو۔میں پچھلے سال اکتوبر نومبر میں اس نیت سے دہلی گیا تھا کہ کوشش کر کے کا نگر میں اور مسلم لیگ کی صلح کرا دوں۔میں ہر لیڈر کے دروازہ پر خود پہنچا اور اس میں میں نے اپنی ذرا بھی بہتک محسوس نہ کی اور کسی کے پاس جانے کو عالہ نہ سمجھا صرف اس لئے کہ کا نگر کہیں اند مسلم لیگ میں مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ان کے درمیان انشقاق اور افتراق رہنے کی وجہ سے ملک کے اندر کسی قسم کا فتنہ و فساد ہونے نہ پائے۔میں مسٹر گاندھی کے پاس گیا اور کہا کہ اس جھگڑے کو ختم کراؤ لیکن انہوں نے سہنس کر ٹال دیا اور کہا میں تو صرف ایک گاندھی ہوں آپ لیڈر ہیں آپ کچھ کریں۔مگر میں کہتا ہوں کہ کیا واقعہ میں گاندھی ایک آدمی ہے اور اس کا اپنی قوم یا ملک کے اندر کچھ رعب نہیں۔اگر وہ صرف ایک