تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 359 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 359

۳۷۸ اس وقت سوال یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے جھگڑے میں حق پر کون ہے اور ناحق پر کون۔آخر یہ بات آج کی تو ہے نہیں۔یہ تو ایک لمبا اور پرانا جھگڑا ہے جو بیسیوں سال سے اُن کے درمیان چلا آتا ہے۔ہم نے بار بار ہندوؤں کو توجہ دلائی کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کو تلف کر رہے ہیں۔یہ امر ٹھیک نہیں ہے۔ہم نے بار بار سہندوؤں کو متنبہ کیا کہ مسلمانوں کے حقوق کو اس طرح نظر انداز کر دینا بعید از انصاف ہے اور ہم نے بار بار ہندو لیڈروں کو آگاہ کیا کہ یہ حق تلفی اور یہ نا انصافی آخر رنگ لائے گی۔مگر افسوس کہ ہمارے توجہ دلانے ہمارے انتباہ اور ہمارے ان کو آگاہ کرنے کا نتیجہ کبھی کچھ نہ نکلا۔ہند و سختی سے اپنے اس عمل پہ قائم رہے۔انہوں نے اکثریت کے گھمنڈ میں مسلمانوں کے حقوق کا گلا گھونٹا۔انہوں نے حکومت کے غرور میں اقلیت کی گردنوں پر چھری چلائی اور انہوں نے تعصب اور بند دوام ذہنیت سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ مسلمانوں کے جذبات کا خون کیا اور مہند دلیڈروں کو بار بار توجہ دلانے کے باوجود نتیجہ ہمیشہ صفر ہی رہا۔ایک مسلمان جب کسی ملازمت کے لئے در خواست دیتا تو چاہے وہ کتنا ہی لائق کیوں نہ ہوتا اس کی درخواست پر اس لئے غور نہ کیا جاتا کہ دو سان ہے اور اس کے مقابلہ میں ہندو چاہے کتنا ہی نالائق ہوتا اس کو ملانہ مت میں لے لیا بھاتا۔اسی طرح گورنمنٹ کے تمام ٹھیکے مسلمانوں کی لیاقت ، قابلیت اور اہلیت کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوؤں کو دے دیئے بھاتے۔تجارتی کاموں میں جہاں حکومت کا دخل ہوتا ہندوؤں کو ترجیح دی جاتی سوائے قادیان کے کہ یہاں بھی ہم نے کافی کوشش کر کے اپنا یہ حق حاصل کیا ہے باقی تمام جگہوں میں مسلمانوں کے حقوق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے خلاف ان کی فرقہ دارانہ ذہنیت کی وجہ سے نفرت پیدا ہوتی رہی اور آخر یہ حالت پہنچ گئی جو آج سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔یہ صورت حالات کس نے پیدا کی جس نے یہ صورت حالات پیدا کی رہی موجودہ حالات کا ذمہ دار بھی ہے۔یہ سب کچھ ہندوؤں کے اپنے ہی ہاتھوں کا کیا ہوا ہے اور یہ فسادات کا تناور درخت وہی ہے جس کا بیچ ہندوؤں نے بویا تھا اور اسے آج تک پانی دیتے رہے اور آج جبکہ اس درخت کی شاخیں سارے ہندوستان میں پھیل چکی ہیں۔ہندوؤں نے شور مچانا شروع کر دیا ہے مگر میں کہتا