تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 356 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 356

۳۴۵ سے مسلمانوں کی اکثریت ہے خواہ اس کے لئے اضلاع کی حدود توڑنی پڑیں یا تسلسل کو ترک کر کے معقول جدا گانہ جزیرے بنانے پڑیں۔دوم تمام علاقوں کو اسلامی علاقے قرار دیا جائے جہاں مسلمان انفرادی طور پر سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ جہاں مسلمانوں ، ہندوؤں اور سکھوں کی رائے معلوم ہے اچھوت اقوام اور عیسائیوں کی رائے ریفرینڈم یعنی حصول رائے عامہ کے طریق پر کی جائے۔سوم۔نہروں کے ہیڈ اور بجلی کے پاورسٹیشن اور پہاڑی صحت افزا مقامات کو اُن علاقوں کے ساتھ کم از کم پندرہ سال کے عرصہ کے لئے محق رکھا جائے جنہیں وہ اس وقت زیادہ تمہ فائدہ پہنچا رہے ہیں خواہ مقامی آبادی کا تناسب اس کے خلاف ہو لے ناظر اعلی قادیان نے جہاں قائد اعظم کو یہ تار دیا وہاں مسٹر ایٹلے وزیر اعظم برطانیہ اور مسٹر چرچل لیڈر خوب اختلاف کے نام بھی تار ارسال کیا جس کی نقل قائد اعظم محمد علی جناح دہلی ، اورینٹ پر لیس اور ایسوسی ایٹڈ پریس لاہور کو بھی بھجوائیں۔تار کے الفاظ یہ تھے :- حمدیہ جماعت پنجاب کی تقسیم کے سخت خلاف ہے کیونکہ وہ جغرافیائی اور اقتصادی لحاظ سے ایک قدرتی یونٹ ہے اور اُسے ہندوستان کی تقسیم پر قیاس کرنا اور اس کا طبیعی نتیجہ قرار د یا بالکل خلافت انصاف اور خلافت عقل ہے۔اگر صوبوں یعنی قدرتی بیوی کا اس لئے تقسیم کیا جارہا ہے کہ اقلیتوں کے لئے حفاظت کا سامان مہیا کیا جائے تو اس صورت میں یو پی کے ہم لاکھ اور بہار کے ہم کچھ اور مدراس کے ۳۹ لاکھ مسلمان زیادہ حفاظت کے مستحق ہیں۔یہ دلیل کہ ان صوبوں کی مسلمان آبادیاں کسی حصہ میں بھی اکثریت نہیں رکھتیں ایک بالکل غیر متعلق اور غیر موثر دلیل ہے کیونکہ اگر تقسیم کو قدرتی یونٹوں کے اصول کی بجائے اقلیتوں کی حفاظت کے اصول پر مبنی قرار دینا ہے ، تو پھر اس وقت ان مسلمان آبادیوں کا منتشر صورت میں پایا جانا ہرگز انصاف کے رستہ میں روک نہیں ہونا چاہیئے۔بلکہ اس وجہ سے ان کی حفاظت کا حق اور بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے سکھوں کو بجھا جیسا کہ اُن کا اہل الرائے اور سنجیدہ طبقہ خیال کرتا ہے پنجاب کی تقسیم سے قطعا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ وہ اپنی آبادی کو دو حصوں میں بانٹ کر اور دونوں حصوں میں اقلیت رہتے ہوئے اپنی " الفضل" سے مٹی سلام میں صفحہ ۵ کالم 1۔