تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 347 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 347

۳۳ فصل ششم چوہدری لالانا ضروری استعفاء کی کایا ہےتوجہد اور قائد اعظم کا اظہار مستر اظهارات و شکریہ تقیم بنا کے میں جماعات است و کار را بیان انتقال اقتدار سےتعلق بوجوان شہر کی برطانی کیم اور قام معظم اگرچه بر طانوی حکومت در جون سایه تک تمام اختیارات ہندوستان پنجاب کی یونینسٹ وار را کو سپرد کر دینے کا اعلان کو چکی تھی۔مگر چونکہ اٹلی حکومت کے اعلان اور وزارتی میشن کے فارمولا کے مطابق یہ اختیارات ابتدار صوبوں کو منتقل ہونے والے تھے اس لئے مسلم لیگ کے لئے پاکستان کے حصول میں ایک بہت بڑی رکاوٹ پیدا ہو گئی اور وہ یہ کہ اُن دنوں پنجاب میں یونینسٹ وزارت قائم تھی جس کی موجودگی میں صوبہ کے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جانا قطعی طور پر ناممکن تھا یہ صورت حال قائد اعظم اور دوسرے تما وقتہ دار مسلم لیگیوں کے لئے حد درجہ تشویش انگیز اور پریشان کن تھی اور بظاہر اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ہے تحریک پاکستان کے اس انتہائی نازک موقعہ پر چودھری چودھری محمد ظفر اللہ خالص صلح میدان عمل میں م ظفر اللہ خاں صاحب ایک بار پھر میدان عمل میں نکل کے حق یہ ہے کہ مسلم لیگی زماہ ایک عرصہ سے اس تگ و دو میں مصروف تھے کہ سر خضر حیات خاں وزیر اعظم یونینسٹ حکومت کو مسلم لیگ میں شامل کریں۔چنانچہ پنجاب لیگ کے اکا ہو نے خان افتخار حیات خان ان دنوں شملہ مسلم لیگ کی قیادت میں ستمبر کے آخری ہفتہ میں ان سے مذاکرات بھی کئے۔سر خضر حیات خاں ان دنوں شملہ میں تھے۔یہ مذاکرات قائد اعظم کے مشورہ پر ہوئے تھے مگر ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا ہے و انقلاب " ۳۰ ستمبر ۹۴اء صفحه اکالم 1 )