تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 346 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 346

۳۳۵ اعلان کیا :- " ملک معظم کی حکومت کو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا ہے کہ ہندوستانی پارٹیوں میں ابھی تک اختلافات موجود ہیں جو دستور ساز اسمبلی کو اس طرح کام کرنے سے روک رہے ہیں جس طرح کہ اسے کام کرنا چاہیئے تھا۔وزارتی اسکیم کی تحقیقی مغربیت یہ ہے کہ اسمبلی (مختلف جماعتوں کی ) پوری پوری نمائیندہ ہو ملکہ معظم کی حکومت کی خواہش یہ ہے کہ وزارتی وفد کی اسکیم کے مطابق ایسے با اختیار اداروں کو ذمہ داری منتقل کر دی جائے جو ہندوستان کی تمام پارٹیوں کے منظور کردہ آئین کی رو سے قائم کئے گئے ہوں۔لیکن سردست باد قسمتی سے ایسی کوئی واضح امید نظر نہیں آتی کہ ایک ایسا دستورہ اور ایسے با اختیار ادارے وجود میں آجائیں گے۔موجودہ غیر یقینی حالت خطروں سے مگر ہے اور اُسے غیر معین عرصہ کے لئے طول نہیں دیا جا سکتا۔ملک معظم کی حکومت یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ اُن کا یہ قطعی ارادہ ہے کہ در خون شہر تک ہندوستان کے ذمہ دار ہا تھوں میں اختیارات منتقل کرنے کی غرض سے ضروری تدبیریں عمل میں لائے۔اس وجہ سے ضروری ہے کہ تمام جماعتیں اپنے اختلافات مٹا دیں تاکہ ان بھاری ذمہ داریوں کو جو اُن پر آئیندہ سال آنے والی ہیں اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے لئے تیار ہو جائیں اللہ اس اعلان میں کانگرس اور مسلم لیگ دونوں سیاسی جماعتوں کی تسلی کا جواز موجود تھا۔کیونکہ ایک طرحت اس میں ہندوستان کی آزادی کی فیصلہ کن تاریخ مقرر کر دی گئی تھی جو کانگرس کے لئے موجب اطمینان پیز تھی۔دوسری طرف واضح کیا گیا تھا کہ اگر دستور ساز اسمبلی میں مسلم لیگ شریک نہ ہوئی تو اس کی نمائندہ حیثیت قانو نا ختم کر دی بجائے گی بالفاظ دیگر اکھنڈ بھارت کا کا نگرمی نظریہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا اور وہ پاکستان قائم ہو کر رہے گا۔ے قائد اعظم اور دستور ساز اسمبلی صفه ۲۶۴ ۲۶۵ ج