تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 345
کا ام سلم العالم در مجلس دستور ساز اسمبلی کی کامیابی کا مدار متفقہ لائحہ عمل پر ہے۔اگر ایسا آئین مرتب ہو گیا جس میں ہندوستانی آبادی کے کسی کثیر حصہ کو نمائندگی نہیں دی گئی تو ملک معظم کی حکومت اس آئین کو نارضامند علاقوں پر مسلط کرنے کو تیار نہیں ہوگی" اس اعلان کا صاف مطلب یہ تھا کہ پنڈت نہرو اور اُن کی دستور ساز اسمبلی جو قوانین بھی چاہیے مرتب کرے۔وہ اس آئین کو ہندو اکثریت کے علاقوں میں جہاں چاہیں نافذ کریں۔لیکن جہاں تک پاکستانی علاقوں وہ کا تعلق ہے یہ آئین پر کاہ کی حیثیت نہیں رکھتا ہے وزیر بند سر سٹیفورڈ کریس نے ۱۲دسمبر ۱۹۴۷ء کو دارالعوام میں تقریر کی جس میں اپنے وعدہ کا اعادہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر مسلم لیگ دستور ساز اسمبلی میں شامل ہونے پر آمادہ نہ کی جا سکے تو ان حصوں کو جہاں مسلم لیگ اکثریت میں ہے موجودہ دستور ساز اسمبلی کے مرتب کردہ آئین کا پابند نہیں سمجھا جائے گا ؟ قائد اعظم اور مسلم لیگ ہمبلی کے مقاطعہ پر ڈٹے ہوئے تھے کہ مسٹرائیلی وزیر اعظم برطانیہ نے قائد اعظم محمد علی جناح ، نوابزادہ لیاقت علیخاں ، پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار یادیو سنگھ کو صلاح و مشورہ اور مفاہمت کے لئے لندن طلب کیا۔اس موقعہ پر سید نا المصلح الموعود نے مسٹر ایلی کے نام ایک مکتوب لکھا جس میں استدعا کی کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مفاد کو قربان کر کے کانگریس کے حلیف نہ بنیں“ یہ خط چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ امام مسجد لنڈن نے مسٹر ایٹلی کے حوالہ کیا۔سے لندن میں ان لیڈروں کی ایک مختصر سی گول میز کانفرنس بھی منعقد ہوئی مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا اور بالآخر کراچی میں مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا کریا تو ہندو دستور ساز اسمبلی مفشوخ کی جائے ورنہ مسلم دستور ساز اسمبلی کے قیام کا بھی اعلان کیا جائے لیتے مسٹرائیلی کی طرح ۲ فروری علئہ جب ملک میں متحدہ دستور ساز اسمبلی کے امکانات یکسر ختم ۲۰ ہو گئے تو ۲۰ فروری 19 کو سٹرائیلی وزیر اعظم نے کو مکمل آزادی دینے کا اعلان ہندوستان کی جون شیر تک مکمل آزادی کا مندرجہ ذیل اه حیات قائد اعظم صفحه ۶۵۳ و از چوہدری سردار محمد یہاں طبع دوم : سے " قائد اعظم اور دستور ساز اسمبلی صفحه ۲۵۰ (از محمد اشرف خان خطا : سه و الفضل " ۱۳ فتح دسمبر سایش صفحه ۱ : رسید رئیس احمد جعفری : " قائد اعظم اور ان کا عہد" شہ یادر ہے ۲۰ فروری وہی تاریخ ہے جبکہ حضرت مسیح موعود کو امیروں کے رستگار سیدنا الصلح الموعود کی آسمانی بشارت ملی تھی ؟