تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 334
۳۲۳ ا حیرت انگیز پلٹا کھایا ہے۔اور اس گفتگو کی ناکامی کے باوجود لیگ کی مرکزی حکومت میں شرکت یقینی خیال کی جارہی ہے۔باخبر حلقوں کی رائے یہ ہے کہ لیگ نئی حکومت میں اپنے پانچ نمائندے بھیج دے گی اور اندر جا کر اس حکومت کو تباہ کر دے گی۔لیگ کی عارضی حکومت میں شرکت پر آمادگی کے فوراً بعد حکومت از سر نو مرتب کی جائے گی بیگ کو اب اس سے کوئی سرد کار نہیں ہوگا کہ کانگرس اپنے کوٹا میں سے کوئی مسلمان نامزد کرتی ہے یا نہیں۔لیگ ہر قدم پر مزاحمت کی نیت سے حکومت میں شامل ہو رہی ہے۔کانگرسی حلقوں کے لئے یہ صورت حال بالکل غیر متوقع ہے اور آج بھنگی کالونی میں کچھ سراسیمگی سی نظر آتی ہے۔بعض کا نگریسی لیڈروں نے کھلم کھلا یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اگر لیگ اس طرح کانگرس سے سمجھوتہ کئے بغیر ہی حکومت میں شامل ہوگئی تو ہمارے سب کئے دھرے پھر پانی پھر جائے گا وہ العرض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت مصلح موعود کی مساعی جمیلہ اور دعاؤں کی برکت سے مسلم لیگ فاتحانہ شان کے ساتھ مشہوری حکومت میں شامل ہو گئی اور حضور ۱۴ اکتوبر ۹۴ نر کو دہلی سے روانہ ہو کہ اگلے روز گیارہ بجے کے قریب قادیان دار الامان واپس تشریف لے آئے سکے سفر بی کے نہایت مختصر سے کو الف پر روشنی ڈالنے کے بعد اب حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک اس کی تفصیل حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک سے درج کی جاتی سے سفر دہلی کی تفصیل ہے حضور نے ۱۸ امضاد / اکتوبر میش کو فرمایا :- ۱۳۲۵ 904 یں نے دہلی کا سفر کیوں کیا۔اس کی وجہ در حقیقت وہ نوا ہیں تھیں جو "الفضل “ میں چھپ چکی ہیں۔ان خوابوں سے مجھے معلوم ہوا کہ اس مسئلہ کے حل کو اللہ تعالٰی نے کچھ میرے ساتھ بھی وابستہ کیا ہوا ہے۔تب میں نے اس خیال سے کہ جب میرے ساتھ بھی اس کا کچھ تعلق ہے تو مجھے سوچنا چاہیئے کہ میں کس رنگ میں کام کر سکتا ہوں۔اس مسئلہ پر غور کیا اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ممکن ہو برطانوی حکومت اس غلطی میں مبتلا ہو کہ اگر مسلم لیگ کو نظرانداز بھی کر دیا جائے تو مسلمان قوم بحیثیت مجموعی ہمارے خلاف نہیں ہوگی بلکہ ایسے مسلمان جو لیگ میں شامل نہیں اور ایسی جماعتیں اے مسٹر گاندھی کی رہائش گاہ بہ ۲ نوائے وقت " لاہور سوار اکتوبر سر اور صفحہ کالم ۰۲ سلم "الفضل و ار ا خاد/ اکتوبرش صفحه :