تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 325
کانگریس اگرچہ کا بینہ وفد کی سفارشات کو قبول کرتی ہے لیکن وہ صرف دستور ساز اسمبلی میں شریک ہوگی۔عبوری حکومت میں شریک نہیں ہوگی۔کیونکہ نہ وہ مرکزی کابینہ میں ہندو مسلم مساوات تسلیم کر سکتی ہے نہ اسلام اور بنگال کے یور مینوں کا حق رائے دہی مجلس دستور ساز اسمبلی میں قبول کر سکتی ہے۔نیز مطالبہ کیا کہ دستور ساز اسمبلی کو شاہی اختیارات منتقل کر دیئے جائیں اور صوبوں کی جبری زمرہ بندی بھی اُڑا دی جائے بلے اب جو وزارتی میشن کا اعلان ہوا۔اور وائسرائے نے مسلم لیگ اور کانگریس کو عبوری حکومت میں شرکت کی دعوت دی تو مسلم لیگ نے اپنی قرارداد کی روشنی میں عبوری حکومت میں شمولیت منظور کر لی مگر کانگرس نے یه دعوت رد کر دی۔اس صورت میں وائسرائے ہند کو اپنے اعلان اور جمہوری اصولوں کے مطابق عبوری حکومت کی زمام اقتدار مسلم لیگ کو سونپ دینی چاہیے تھی۔چنانچہ اس مرحلہ پر حضرت مصلح موعود نے بھی اپنے ایک بیان میں فرمایا کہ " کانگریس نے گو ستقل انتظام کے متعلق وزارتی میشن کی سکیم منظور کرلی ہے لیکن عارضی گورنی ہے متعلق تجویز مسترد کر دی ہے۔میشن نے اعلان کیا تھا کہ اگر عارضی حکومت کے متعلق کسی پارتی بیماری تجاویز منظور نہ کیں تو پھر ہم حکومت قائم کر دیں گے۔اس اعلان کے مطابق اب اس کا فرض ہو کہ کانگریں کو چھوڑ کر باقی پارٹیوں کے تعاون کے ساتھ عارضی حکومت قائم کر دے" سے حضور نے کانگرسی رویہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا۔مسلم لیگ نے اپنے بعض مطالبات چھوڑ دیئے ہیں اور یہ قابل تعریف بات ہے۔لیکن یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ کانگرس نے سمجھوتے کی خاطر کو نسا مطالبہ چھوڑا ہے۔۔۔۔اس نے اس - موقعہ پر جو رویہ دکھایا ہے وہ یقیناً عقل اور سیاست کے اصول کے خلاف ہے کہ الغرض کانگریس کا رویہ کسی طرح درست نہ تھا اور اس کے عارضی حکومت کی پیشکش کو رد کر دینے کے بعد وائسرائے ہند لارڈ ویول کو اپنے اعلان کے مطابق مسلم لیگ کو عارضی حکومت کی دعوت دینی چاہئے تھی مگر انہوں نے نقض عہد کر کے دعوت واپس لے لی جس پر مسلم لیگ کونسل نے اپنے اجلاس کمیٹی میں بطور احتجاج اپنی پہلی قراد اور رضامندی بھی منسوخ کر دی۔" قائد اعظم اور ان کا عہد" صفحہ ۷۳۵ : " ته و ۳ " الفضل » ۲۸ احسان جون یه بیش صفحه ۳ کالم ۹۴