تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 324
صرف موجودہ دشواری کو فوری حل کرنا اور بہترین مشترکہ حکومت بنانا ہے۔(4) وائسرائے اور وزار تقی میشن کو یقین ہے کہ ہندوستان کے تمام فرقے اس مسئلہ کو جلد از جلد طے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ دستور سازی کا کام شروع ہو جائے اور درمیانی عرصہ میں ہندوستان کی حکومت کا نظام حتی الامکان بہترین طریقہ سے چلتا رہے۔(4) اس لئے انہیں امید ہے کہ تمام جماعتیں خصوصاً دونوں بڑی جماعتیں موجودہ جمود کو دور کرنے کے خیال سے ان تجاویز کو قبول کر لیں گی اور عارضی حکومت کو کامیابی کے ساتھ پھلانے میں مدد کریں گی۔اگر ان تجاویز کو قبول کر لیا گیا تو وائسرائے ۲۶ جون تک عارضی حکومت کا افتتاح کرنے کی کوشش کریں گے۔(۸) اس صورت میں کہ دونوں بڑی جماعتیں یا ان میں سے کوئی مندرجہ بالا سطور پر مشترکہ حکومت کی تشکیل میں تعاون اور اشتراک کے لئے تیار نہ ہوں تو وائسرائے کا ارادہ ہے کہ ان لوگوں کے اشتراک سے جو 4 ارمیٹی کا بیان قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ایک عارضی حکومت بنائی جائیگی اور حتی الامکان اس میں نمائندگی کا لحاظ ر کھا جائے گا۔(4) وائسرائے صوبوں کے گورنروں کو بھی ہداہتیں جاری کر رہے ہیں کہ صوبائی مجالس آئین ساز کے خاص اجلاس بلائے جائیں تاکہ ۱۶ میٹی کے بیان کے مطابق دستور ساز جماعت کے لئے ضروری " انتخابات جاری کر دیئے جائیں لے مسلم لیگ کو کانگرس کار و وصل یا اور ا مسلم لیگ کو نسل قبل زمین و جوان شہ کو فیصلہ کر چکی تھی کہ دو مسلم لیگ معاملہ کے خطر ناک سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے اور اگر ممکن ہو تو ہندوستانی دستوری مسئلہ کے پر امن حل کی خواہش سے متاثر ہو کر وزارتی میشن کی مجبور اسکیم سے اشتراک عمل پر تیار ہے کیونکہ مشن کے پلان میں چھ مسلم مصوبوں کے سیکشن ناب) اور (ج) میں درج لازمی جمعتہ بندی پاکستان کی بنیاد کے طور پر موجود ہے " سے مسلم لیگ کے برعکس ہم اپنوں 21 کو صدر کانگریس نے وائسرائے کے نام ایک مکتوب میں یہ لکھا کہ ملہ " قائد اعظم اور دستور ساز اسمبلی سے مصنفہ محمد اشرف خان عطار صفحه ۲۳۶ تا ۰۲۳۹ " قائد المعلم اور ان کا عہدہ صفحہ ۳۱ *