تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 17 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 17

مستقل عمارت ہونے کی صورت میں ہی دی جا سکے گی۔ان شرائط کی موجودگی میں ایک غریب جماعت کے لئے کسی کالج کا جاری رکھنا نہایت دشوار تھا لہذا اسے بند کر دینا پڑا۔مگر جیسا کہ آئندہ حالات نے بتا دیا در اصل خدائے علیم و خبیر نے اپنی حکمت کا ملہ سے اس جلائتی اور قومی ضرورت کی تکمیل حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کے مثیل و نظیر کے ساتھ وابستہ کر دی تھی اس لئے خلافت ثانیہ کے عہد میں یہ کام نہایت شان و شوکت کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچا۔فصل دوم دور مصلح موعود یں کالج کا از سر نو قیام اور دوبارہ افتتاح 41917 حضرت خلیقہ آسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے خلیفہ منتخب ہونے کے چند ہفتے بعد ۱۲ اپریل کو قادیان میں نمائندگان جماعت کا جو سب سے پہلا مشاورتی اجلاس ہوایا۔اس میں اپنی اس دلی آرزو کا بھی اظہار فر مایا کہ: اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا ایک کالی ہو۔حضرت خلیفہ امسیح اول کی بھی یہ خواہش تھی۔کالج ہی کے دنوں میں کیریکٹر بنتا ہے۔سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے۔اس پر دوبارہ سیاہی کالج ذائت ہی میں ہوتی ہے۔پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگیوں کو مفید اور مؤثر بنانے کے لئے اپنا ایک کالج بنائیں۔پس تم اس بات کو مد نظر رکھو میں بھی غور کر رہا ہوں" سے اس عزم بالجزم کے بعد ربع صدی سے زائد عرصہ گزر گیا مگر قیام کا لج کیلئے حالات سازگار نہ ہو سکے۔نے ملاحظہ ہو یونیورسٹی ایکٹ ۱۹۰۴ دفعہ ۲۱ : له منصب خلافت » صفحه ۳۷ طبع اول مطبوعہ اللہ بخش مشین پولیس قادیان۔