تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 315
۳۰ ہے۔اس کی اصلاح کی تو ضرورت ہے لیکن اس کے حصہ دار بننے کا نام غلامی رکھنا ایک بند باقی مظاہرہ تو کہلا سکتا ہے، حقیقت نہیں کہلا سکتا۔مگر بہر حال ہندوستان کے مختلف حصوں کا باہمی تعاون اور سہندوستان کا برطانوی امپائر سے تعاون باہمی سمجھوتے پر مبنی ہونا چاہیے۔پانچویں ہر سیاسی اصل ضروری نہیں کہ ہر جگہ اپنی تمام شقوں کے ساتھ چسپاں ہو سکے۔میرا تجربہ ہے کہ انگلستان کے اکثر مرتبہ اپنے ملک کے تجربہ کو ہندوستان پر بھونناچاہتے ہیں۔بہندوستان کے حالات یقیناً انگلستان سے مختلف ہیں۔یہاں آزادی کا بھی اور مفہوم ہے اور انصاف کا بھی اور مفہوم ہے۔مجھے ایک صاح نے بتایا کہ جب انہوں نے مسٹر گاندھی سے سوال کیا کہ کیا آزاد ہندوستان میں مذہب کی تبدیلی کی اجازت ہوگی۔تو انہوں نے جواب دیا کہ مذہب کی آزادی ضرور ہوگی مگر مذہب کی تبدیلی ایک سیاسی مسئلہ ہے۔اس بارہ میں حکومت مناسب رویہ اختیار کر سکتی ہے۔میرے نزدیک یہ نظریہ آزادی کے صریح خلات ہے۔میں نے اس امر کی تحقیق کے لئے جماعت احمدیہ کے مرکزی عہدہ داروں سے کہا کہ وہ کانگریس سے اس کا نقطہ نگاہ دریافت کریں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ جماعت کے سکوڈی نے اس بارہ میں جو چھٹی لکھی اس کا جواب کا نگریس کے سیکٹری نے نہیں دیا۔پھر رجسٹری خط گیا۔اس کا بھی جواب نہیں دیا۔اس پر تعمیر اخطار جبڑی کر کے ارسال کیا گیا مگر اس کا جواب بھی نہ دیا گیا۔تب تار دی گئی کہ اگر اب بھی جواب نہ دیا گیا تو معاملہ مسٹر گاندھی کے سامنے رکھا جاتا اس پر کانگریس کے سیکرٹری نے جواب دیا کہ مسٹر بوس کو افسوس ہے کہ اب تک جواب نہیں دیا گیا ( اس وقت سبھاش چندر بوس کانگرس کے پریزیڈنٹ تھے ) اب جواب بھیجوایا جا رہا ہے۔یہ جواب جب موصول ہوا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ آپ کو کانگرس کے کراچی ریز لیوشن نمبر فلاں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جب لکھا گیا کہ اس ریزولیوشن کی تعبیر کے متعلق تو ہمارا سوال ہے۔تو اس کا یہ جواب دیا گیا کہ کانگریس ہی اپنے ریزولیوشن کی تعبیر کر سکتی ہے جب اس پر کہا گیا کہ کانگرس سے تو اس کے عہدہ دارہی پوچھ سکتے ہیں۔ہمارے پاس کو نسا ذریعہ ہے۔تو اس پر جواب دیا گیا کہ ہم نہیں پوچھ سکتے ، آپ ہی دریافت کریں۔اس واقعہ نے ثابت کر دیا کہ کانگروس کے نزدیک آزادی کا مفہوم یورپ کے زمانہ وسطیٰ والا ہے جیسے مسلمان کسی صورت میں تسلیم نہیں کر سکتے۔چنانچہ گھلا اس کا یہ نمونہ موجود ہے کہ ہندو ریاستوں میں ایک ہندو اگر مسلمان ہو جائے، تو اول بغیر مجسٹریٹ کی اجازت کے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔دوم اُسے اپنے وراثہ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔کانگریس سے جو ہماری گفت و شنید ہوئی ہے اس نے ریاستوں کے اس رویہ پر مہر تصدیق 18 دی ہے۔غرض صرف ڈیمو کریسی کے لفظ پر نہیں جاتا