تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 313
احمدیوں کو یہ دیا کہ اول تو ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے رگو مسیحیوں کی انجمن کو کمیشن نے اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی ہے) دوسرے جہانتک سیاسیات کا تعلق ہے جو حال دوسرے مسلمانوں کا ہوگا وہی ہارا ہو گا۔تیسرے ہم ایک چھوٹی اقلیت ہیں اور پارلیمنٹری وفد اس وقت اُن سے بات کر رہا ہے جو سہندوستان کے مستقبل کو بنایا بگاڑ سکتے ہیں۔دنیوی نقطہ نگاہ سے ہم ان جماعتوں میں سے نہیں ہیں۔اس لئے باوجود اس امر کے کہ جنگی سرگرمیوں کے لحاظ سے اپنی نسبت آبادی کے مد نظر نیم تمام دوسری جماعتوں سے زیادہ قربانی کرتے والے تھے کمیشن کے نقطہ نگاہ سے ہمیں کوئی اہمیت حاصل نہیں چوتھے یہ کہ خواہ کمیشن کے سامنے ہمارے آدمی پیش ہوں یا نہ ہوں ہم اپنے خیالات تحریر کے ذریعہ سے ہر وقت پیش کر سکتے ہیں۔سو جواب کے آخری حصہ کے مطابق میں چند باتیں پہلی قسط کے طور پر پارلیمنٹری وفد اور سہندوستان کے نمائندوں سے کہنا چاہتا ہوں۔وفد کے ممبران کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دُنیا کا فساد سب سے زیادہ اس امر سے ترقی کر رہا ہے کہ حکومتیں اخلاقی اصول کی پیروی سیاسیات میں ضروری نہیں بھتیں۔حالانکہ سیاست افراد کو تسلی دینے کے لئے ہرتی جاتی ہے اور افراد جو اخلاق کی بناء پر سوچنے اور غور کرنے کے عادی ہیں جب ایک فیصلہ ایسا دیکھتے ہیں کہ جس کی بنیاد عام جانے بوجھے ہوئے اخلاقی نظریات کے خلاف ہوتی ہے تو وہ اس سے تسلی نہیں پاتے اور اُن کے دل کی خلش انہیں شورش اور فساد پر آمادہ کر دیتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قومی امیدوں اور امنگوں کے پورا نہ ہونے پر بھی شورش ہوتی ہے لیکن وہ شورش دیہ پا نہیں ہوتی اور اس کا ازالہ کرنا ممکن ہوتا ہے لیکن اخلاقی اصول کے خلاف کیا گیا فیصلہ سینکڑوں اور ہزاروں سال تک فساد اور بے چینی کو لمبا کئے جاتا ہے۔پس انہیں چاہیئے کہ ہندوستان کی الجھنوں کا حل صرف سیاست کی مدد سے کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اخلاق کے اصول کے مطابق اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں تا اگر اس محل سے کوئی فساد پیدا ہو تو وہ دیر پا نہ ہو۔دوسرے اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی وعدے حالات کے بدلنے سے بدل سکتے ہیں۔مثلاً ایک گورنمنٹ سے کسی دوسری گورنمنٹ کا کوئی معاہدہ ہو، لیکن بعد میں اس ملک کی اکثریت اپنی گورنمنٹ کے خلاف ہو جائے تو معاہد حکومت یقینا پابند نہیں کہ اول الذکر حکومت کا ان حالات میں بھی ساتھ دے کیونکہ معاہدہ اس امر کی فرضیت پر مبنی تھا کہ وہ حکومت اپنے ملک کی نمائندہ ہے جب وہ نمائندہ نو ر ہے تو معاہد حکومت