تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 312
٣٠١ ان تین علاقوں کی اپنی اپنی علاقائی حکومت ہوا اور تمام ملک کی وفاقی حکومت ہو جس میں یہ تین علاقے منسلک ہوں مرکزی حکومت کے اختیارات امور خارجہ امور متعلقہ دفاع صیغہ مواصلات اور ان محکمہ جات کے متعلقہ مالیات مشتمل ہوں اور ان تک محدود ہوں۔بقیہ تمام امور اور صیفہ جات علاقائی حکومتوں کے سپرد ہوں۔یہ نظام دوست سال تک جاری رہے۔دس سال کی میعاد پوری ہونے پر علاقہ ب رجم کو اختیار ہو کہ اگران میں سے ایک یا دونوں چاہیں تو وفاقی نظام سے علیحدہ ہو کر اپنی اپنی مستقل آزاد حکومت قائم کر لیں۔اس امر کا فیصلہ علاقے کی مبیں قوانین ساز کے اختیار میں ہو۔علاقہ جج کے متعلق یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اگر علاقائی مجلس علیحدگی کا فیصلہ کرے تو آسام کے نمائندگان کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی کثرت رائے سے یہ فیصلہ کریں کہ وہ علاقے میں نہیں اور کہنا چاہتے اور علاقہ سے علیحدگی پر وہ علاقہ کو میں شامل ہو جائیں گے۔پارلیمنٹری میشن کی ہندوستان میں آمد پر حضرت مصلح موعود نے ایک دینی اور روحانی پیشوا کی حیثیت سے برطانوی ارکان مسلم لیگ اور کانگرس سب کو اُن کی نازک ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور مہندوستان کی گشتی کو عدل و انصاف اور اخلاق کے تقاضوں کے مطابق سلجھانے کا مخلصانہ مشورہ دیا۔نیز مسلم لیگ کے موقف کی زبر دست حمایت کی اور کانگرس کے بے بنیاد پراپگینڈا کی حقیقت واقعات کی روشنی میں واضح فرمائی اور اُسے مشورہ دیا کہ وہ تبدیلی مذہب کے متعلق اپنا زاویہ نگاہ بدل نے حضرت امیر المومنین الصلح الموعود نے میں مون میں یہ سب امور بیان فرمائے اس کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے ہے أعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ " بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَمدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ سامير پارلیمنٹری مشن اور ہندوستانیوں کی فرض پارلیمنٹری وفد ہندوستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ہندوستان میں وارد ہو چکا ہے۔مجھ سے کئی احمدیوں نے پوچھا ہے کہ احمدیوں کو اُن کے خیالات کے اظہار کا موقعہ کیوں نہیں دیا گیا۔میں نے اس کا جواب اُن ے اس اہم مضمون کا ایک حصہ اخبار انقلاب لاہور نے اپنی 9 اپریل سیاہ و سفر سوم کی اشاعت میں بھی دیا تھانہ