تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 310
۲۹۹ امت مرحومہ کے ان سب فرقوں نے اصل اسلام جو سب میں مشترک اور متفق علیہ ہے یعنی کلمہ السلام لا اله الا الله محمد رسول اللہ پر اجتماع کیا ہے اور اس کلمہ طیبہ کے قائلین کو مشرکین و کفار کے تقلب سے خواہ وہ مصنم پرست ہوں یا صلیب پرست ہوں بچانے پر متفق ہوئے ہیں۔خواہ وہ تغلب اس وقت موجود ہے، خواہ اس کا آئندہ اندیشہ ہے۔اور پاکستان کے نظام کی بنا، اسی بات پر ہے۔۔۔۔اور آپ سے پوشیدہ نہیں کہ سوائے اس کے مسلمانوں کی۔تنظیم کی کوئی صورت نہیں جو خوبی تھی آپ نے اسے طعن بنا دیا جو سراسر بے جا ہے " لے علام ازیں صوبائی انتخاب کے دوران مشہور المحدیث عالم مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ایک بیان میں کہا :- پاکستان کے مفہوم پر جو اعتراضات مجھے پہنچے ہیں میں اُن کو صحیح نہیں سمجھتا۔مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ اس کے بانی رافضی ہیں، بدعتی ہیں اور مرزائی بھی شریک ہیں وغیرہ وغیرہ۔میرے خیال میں یہ اعتراضات سیاسی اصول سے بالا تر ہیں۔سیاسیات میں قوم کو بحیثیت نوع کے دیکھا جاتا ہے اصناف کا لحاظ نہیں ہوتا " کئے جماعت احمدیہ کی طرف سے اللہ ار کے انتخابات سے اگر چہ مسلم لیگ کی نمائندہ حیثیت بالکل واضح ہوگئی مگر کانگریس نے پنجاب میں سرگلانسی گورنر پنجاب یونینسٹ وزارت کے علا احتجاج کی شہ اور اشارہ پاکر یونینسٹ پارٹی کے لیڈر سر خضرحیات خان ے تعاون کرلیا۔سرگانسی نے مسلم اکثریت کو نظرانداز کر دیا اور ملک خضر حیات کی قیادت میں کانگریس، اکالی اور یونینسٹوں کے سات مسلمان ممبر ملا کہ ایک کولیشن بنادی گئی۔بہندوستانی عیسائیوں کا تعاون حاصل کرنے کیلئے انہیں سپیکر شپ کی پیش کش کی گئی۔اس طرح پنجاب میں مسلم لیگ 4 مبر رکھنے کے باوجود مسلم لیگی وزارت نہ بن سکی اور عوام کی مرضی کے خلاف دوبارہ وہ حکومت ٹھونس دی گئی جو وہ انتخابات میں مسترد کر چکے تھے۔اس غیر نمائیندہ اور غیر آئینی وزارت کے خلاف ار مارچ نہ کو قادیان میں حضرت چوہدری فتح محمد اور صاحب سیال ایم۔اے کی صدارت میں ایک احتجاجی جلسہ کیا گیا جس میں مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری پرنسپل جامعہ احمدیہ نے حسب ذیل قرار داد پیش کی جو بالاتفاق پاس کی گئی۔" ” مسلمانان قادیان کا بہ عظیم الشان اجتماع گورنر پنجاب کے اس طریق کو ہجو اس وقت وزارت ه پیغام هدایت در تائید پاکستان مسلم لیگ " صفحه ۱۹۲ * + 14۔**