تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 309
۲۹۸ راج محمود آباد، چودھری خلیق الزمان اور سر ظفر اللہ خاں قادیانی سب اس میں شریک تھے۔انہیں سے اکثر آج اس کے قائد ہیں “ لے اُن دنوں سیالکوٹ کے ایک عالم نے بھی احمدیوں کی مسلم لیگ میں شرکت و تعاون پر اعتراض کیا جس پر مشہور اہلحدیث عالم جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے جو جواب دیا وہ ہمیشہ آب زر سے لکھا جائیگا۔آپ نے کہا :- احمدیوں کا اس اسلامی جھنڈے کے نیچے آجانا اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعورت ہے۔وجہ یہ کہ احمدی لوگ کانگرس میں تو شامل ہو نہیں سکتے کیونکہ وہ خالص مسلمانوں کی جماعت نہیں ہے اور نہ احرار میں شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ سب مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنی احراری جماعت کے لئے لڑتے ہیں جن کی امداد پر کانگریسی جماعت ہے اور حدیث الدین النصیحۃ کی تفصیل میں خود رسول مقبول نے عامر مسلمین کی خیر خواہی کو شمار کیا ہے (میمن مسلم) ہاں اس وقت مسلم لیگ ہی ایک ایسی جماعت ہے جو خالص مسلمانوں کی ہے۔اس میں مسلمانوں کے سب فرقے شامل ہیں۔پس احمدی صاحبان بھی اپنے آپ کو ایک اسلامی فرقہ جانتے ہوئے اس میں شامل ہو گئے جس طرح کہ اہلحدیث اور صنفی اور شیعہ وغیر ہم شامل ہوئے اور اس امر کا اقرار کہ احمدی لوگ اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں مولنا ابو الکلام صاحب کو بھی ہے۔اُن سے پوچھئے۔اگر وہ انکار کریں گے تو ہم ان کی تحریروں میں دکھا دیں گے لے گوجرانوالہ کے ایک مشہور اہلحدیث عالم مولوی محمد اسماعیل صاحب نے ایک دو ورقہ میں مسلم لیگ پر طعن کیا کہ اس میں قادیانی ، رافضی ، اسماعیلی اور بریلوی شامل ہیں اور انہی فرقوں کی جماعت بندی کا دوسرا نام مسلم لیگ ہے۔جناب مولی میر محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے اس اعتراض کا بھی مسکت جواب دیا۔جو یہ تھا۔انوار عثمانی صفحه ۱۸۶ (مکتوبات شیخ الاسلام شبیر احمدعثمانی مرتبہ پر وفیسر محمد انوارالحسن صاحب انور شیر کوئی ؟ ه پیغام هدایت در تائید پاکستان مسلم لیگ صفحه ۱۱۲ - ۱۳ ، مرتبه مولوی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی (جنوری ۹۴۶) مطبوعہ شنائی پریس امرتسر : کے ناشر مولوی عطاء اللہ صاحب بھوجیانی خطیب جامع اہلحدیث شهر فیروز پور۔