تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 307
پر ایک نظر “ نامی رسالہ میں لکھا :- " آج مسٹر جنا تا بیرسٹر کی بجائے مفتی کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔اور سر ظفر اللہ قادیانی۔راجہ محمود آیا و شیعہ کو جو پاکستان کے حامی ہیں، مسلمان دیانتدار قرار دیتے ہیں۔اور مولانا حسین احمد حباب مفتی کفایت اللہ صاحب جیسے گائدین ملت کو بد دیانت بے ایمان کہہ دیتے ہیں اور لیگی اختیارات ان میمنوں کو نہایت آب و تاب سے شائع کرتے ہیں۔اور لیگی نوجوان مسٹر جناح کے فتوے پر اعتقاد رکھتے ہیں جناب مولوی طفیل احمد صاحب مولوی فاضل دیوبند نے روز نامہ شہباز کیا ہور (مورخہ ۲۰ نومبر ۱۷) میں لکھا: ا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت حکیم الامت (مولوی اشرف علی صاحب تھانوی ناقل مسلم لیگ جیسی جماعت کی حمایت کریں۔اب تو وہ قادیانیوں ، دہریوں اور تبرائیوں کی مجتم جماعت ہے۔لہذا تمام متوسلین کے ذریہ ضروری ہے کہ حضرت والا کا اتباع کرتے ہوئے لیگ سے علیحدگی اختیار کریں“ اسی طرح جمعیتہ علماء ہند نے مسلم لیگ کے خلاف انتخابی مہم کے دوران ایک دو ورقہ مسلم لیگ کے شاندار اسلامی کارنامے کے نام سے تقسیم کیا جس میں قائد اعظم محمد علی جناح کو محض اس وجہ سے انانیت پسند اور آمر قرار دیا کہ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ لاہور سائے میں احمدیوں کو مسلم لیگ کی رکنیت سے خارج کئے جانے سے متعلق ایک قرار داد کو پیش تک نہیں ہونے دیا۔متاز مسلم کیگی عالم جناب مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی نے روزنامہ نوائے وقت " میں ایک اعلان شائع کیا تھا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کے لئے سفینہ نجات ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ مسلم لیگ کو ووٹ دیں۔اپرا متشکر ایک نیشنلسٹ عالم دمولوی یہا، الحق صاحب قاسمی نے جناب مولوی شبیر احمد صاحب کی خدمت میں لکھا کہ و آپ کو معلوم ہوگا۔لیگ کے ممبر ہیں اور ان کی دونو پارٹیاں رقادیانی اور لاہوری) الیکشن میں لیگ کو کامیاب بنانے کے لئے سر توڑ کوشش اور انتہائی جدو جہد کر رہی ہیں۔بلکہ مرزا محمود قادیانی نے اعلان کر دیا ہے کہ مسلم لیگ کی کامیابی احمدیت" کی کامیابی ہے۔ان کے علاوہ آج لیگ کی سیاست پر وہ شیعہ لیڈر چھائے ہوئے ہیں جنہوں نے تیرا ایجی ٹیشن میں برائیوں کو ہر طرح امداد دی جیں جماعت کی تشکیل اس قسم کے بے دینوں اور مرتدوں سے عمل میں لائی گئی ہو۔اور جو جماعت کمیونسٹوں اور مرزائیوں کو "مسلمان" ہونے سه صفر به ناظم جمعیتہ علمام بند ی مطبوعہ ولی پرنٹنگ ورکس دہلی۔