تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 306 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 306

۲۹۵ at گو الیکشن سے پہلے لیگ نے مجھے اپنا ٹکٹ نہیں دیا تھا لیکن اب جبکہ میں خدا کے فضل سے آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہو گیا ہوں میں اپنی جماعت کی ہدایت کے ماتحت پھر دوبارہ اپنے آپ کو مسلم لیگ کی ممبری کے لئے پیش کرتا ہوں“ نے اس ضمن میں دوسری مثال شیخ فیض محمد صاحب پلیڈر کی ہے جو یونینسٹ ٹکٹ پر اسلقہ ڈیرہ غازیخان وسطی سے) کامیاب ہوئے اور مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔جماعت احمدیہ نے شیخ صاحب سے بھی تعاون کیا۔پنجاب کی ہندو صحافت کی بریہی جماعت حمدیہ کی طرف سے لمبی عمروں سے تعاون پر کانگری حلقے سخت بوکھلا گئے اور ہند و صحافت کھلم کھلا دشنام طرازی اور شرمناک پراپیگینڈا اور افتراء پردازی پر اُتر آئی۔اس حقیقت کا اندازہ لگانے کے لئے ایک واقعہ ملاحظہ ہو۔سردار شوکت حیات خان مسلم لیگی امیدوار تھے۔احمدی مردوں اور عورتوں نے انہیں مسلمانوں کا بہترین سیاسی نمائندہ سمجھتے ہوئے ووٹ دیئے۔بات صرف اس قدر تھی۔مگر ہند و اخبار پرتاپ اک واری کی اشاعت میں اسراقہ کو اخلاق سوز اور شرمناک رنگ سے جگہ دی بیچنا نچہ اس نے لکھا کہ یہ در میانه ۱۴ فروری - آج ٹانگوں اور لاریوں میں پولنگ اسٹیشنوں پر مسلمان عورتوں کو لایا گیا۔سروان شوکت حیات کے حق میں دو ٹیں ڈلوانے کے لئے قادیان سے احمدیہ لڑکیوں اور ہیرا منڈی سے بازاری عورتوں کو لایا گیا تھا۔انہوں نے اپنے سروں پر سبز رنگ کے دوپٹے لئے ہوئے تھے " انتخابات میں میںماعت احمدیہ اور مسلم لیگ کے نیشنلسٹ اور کانگرس نواز علماء کی مسلم لیگ پر تنقید باہمی تعاون پر نیشنلسٹ اور کانگرس نواز علماء کی طرات سے مسلم لیگ اور قائد اعظم پر بہت تنقید کی گئی چنانچہ ناظم علی مرکزی جمعیتہ علما ہند نے تحریک پاکستان سلة الفضل " ۲۵ تبلیغ فروری مش صفحه ۲ سے قائد اعظم اور دستور ساز آئینی مهر ۳ه له الفضل ما تبلیغ فروری ده مش صفحه ۲ خيار الفضل وار تبلیغ فروری ) نے اس شرمناک پراپیگنڈا کے جواب میں آریہ سماجی اخلاق کا جنازہ کے عنوان سے ایک شدہ پر تقسیم کیا جس میں لکھا " اس خبر سے سوائے اس کے کہ نامہ نگار کے ناپاک اخلاق اور ایڈیٹر کی گندی ذہنیت آشکارا ہو جائے ہمیں تو اور کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔لیکن اتنا ہم ضرور پوچھیں گے کہ اگر یہی خبر نامہ نگار کی ہو بیٹیوں یا ایڈیٹر پر آپ کی ماں بہتوں کے متعلق شائع ہو تو کیا وہ ان کو ناگوار نہیں گزرے گی اور ان کے دلوں کو صدمہ نہیں پہنچے گا اور خصوصا اس وقت جبکہ اس خبر میں صداقت کا ایک ذرہ بھی نہو اگر تمہارے اخلاق اس قدر گندے ہو چکے ہیں کہ ان میں شرافت اور انسانیت کا ایک شہرہ بھی باقی نہیں رہا تو بیشک ایک دوسرے کو گالیاں دو اور درندگی کا مظاہرہ جیسے چاہو کر دیگر خدا کے لئے شریف پر دہ نشین لڑکیوں کو تو درمیان میں نہ لاڑ