تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 304 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 304

۴۹۳ صوبہ میں مسلم لیگ کا مقابلہ کیا۔مگر اس کے باوجود صوبائی مجالس آئین ساز میں مسلم لیگ کو زبر دست فتح ہوئی جس کی تفصیل یہ ہے:۔آسام مجلس آئین ساز میں وہ مسلم نشستیں تھیں ان میں سے اس نشستوں پر مسلم لیگ نے قبضہ کر لیا۔سندھ ۲۲ مسلم نشستیں تھیں جن میں سے ۲۹ پر مسلم لیگ کامیاب ہوئی۔کر تھا۔یہاں ۶ مسلم نشستوں میں سے ، مسلم لیگ نے جیت لیں۔یو پی و مسلم نشستیں تھیں۔۵۲ پر مسلم لیگ نے قبضہ کر لیا۔بہار ہم مسلم نشستیں تھیں۔۳۶ پر مسلم لیگ نے قبضہ کر لیا۔مدراس - ۲۹ مسلم نشستیں تھیں۔تمام پر مسلم لیگ نے قبضہ کر لیا۔اڈیہ۔ہم مسلم نشستیں تھیں۔تمام پر مسلم لیگ نے قبضہ کر لیا۔بمبئی۔مسلم نشستیں تھیں۔تمام پر مسلم لیگ نے قبضہ کر لیا۔پنجاب گل و مسلم نشستیں تھیں۔مین میں سے 14 نشستوں پر مسلم لیگ کا میاب ہو گئی۔احمدیوں نے حضرت مصلح موعود کے ارشاد کی تعمیل میں آسام، حمدیوں کی رو سے مسلم لیگ کی حمایت رو سے حمایت سندھ ، یوپی، بہار، مدراس، اٹریسہ اور بمبئی میں سب مسلم لیگی امید داروں کی حمایت کی اور پنجاب کے ۳۳ حلقوں میں مسلم لیگ کے حق میں ووٹ ڈالا اور ان معنوں کی ۳۲ نشستوں پر مسلم لیگ کامیاب ہوئی میں مسلم لیگی ممبرانکو جماعت احمدیہ نے پنجاب میں ووٹ دیئے اُن میں سے بعض کے نام (مع علقہ کے ) یہ ہیں :- وا اور غلام محمد صاحب (جنوبی شہری حلقہ جات سردار شوکت حیات خانصاحب (جنوبی مشرقی حلقہ جات) ملک برکت علی صاحب (شرقی شہری حلقہ بجات خان بہادر شیخ کرامت علی صاحب د شمال مشرقی حلقہ جات سر فیروز خان نون (قسمت راولپنڈی ملکت وزیر محمد صاحب ( اندرون لاہور مردان) بيكم تصدق حسین صاحب (اندرون لاہور حلقہ نسواں محمد رفیق صاحب ( بیرون لاہور معلقه مردان ) بیگم شاہ نواز صاحبہ (بیرون لاہور معلقه نسواں شیخ صادق حسن صاحب (امرتسر شهر و چھاؤنی، چودھری علی اکبر صاحب پلیڈر (کانگرگاه و مشرقی ہوشیار پور) محمد عبدات دام صاحب (شمالی بجالندھر) نواب افتخارسین صاحب ممدوٹ ( وسطی فیروز پور) میاں افتخار الدین صاحب ( تحصیل تصویر) چوہدری الفضل" تبليغ / فروری اش صفحه ۲۸ ۰