تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 298
شریک نہیں ہو سکتا۔۲۸۹ جب یہ قرار داد پیش ہوئی تو مسٹر جناح نے اس پر بھوٹ کی اجازت نہ دی بھائیگی نقار اینچ میں مذہبی باتیں کسی طرح کامیاب ہو سکتی ہیں۔وہاں تو ہر بات میں مسٹر جناح یا جناح نما لیگی امراء کے رحم پر لیگ میں رہنا پڑتا ہے۔چنانچہ سال ۱۹۳۵ء میں جب ولیوں کا نفرنس کے بعد انتخابات کا زمانہ شروع ہوا۔تو مرزائیوں اور لیگیوں میں تخفیہ ساز باز شروع ہوئی۔من ترا حاجی بگویم تو ماحاجی بگو کے مصداق مرزایوں کو عام مسلمانوں پر مسلط کرنے کی امداد کا یقین دلایا گیا۔اور ہر ممکن طریق پر ان ذرائع سے کام لئے جانے کے پروگرام بنائے گئے جن سے مرزائی مسلمان ثابت ہوں۔مرزا محمود خلیفہ قادیان نے اکتوبر کے مہینہ میں ایک اہم اعلان کیا جو اس کے اخبار میں چھپا جس کا عنوان تھا: آئندہ ایکشنوں میں جماعت احمدیہ کی پالیسی رقم فرمود حضرت امیرالوسین مرزا محمد قادیانی پنجاب کے سوا تمام صوبہ جات کے احمدیوں کو مسلم لیگ کی انتخابات میں مدد کرنی چاہیئے۔جس قدر ☑ ووٹ احمدیوں کے ہیں وہ اپنے حلقہ کے مسلم لیگی امیدواروں کو دیں۔میں امید کرتا ہوں کہ احمدی بیابان کے تمام افراد ، کیا مرد اور کیا عورتیں ، مرد مردوں تک پہنچ کر اور عورتیں عورتوں کے پاس جا کر اُن کے خیالات درست کرنے کی کوشش کریں گے اور اس امر کو اس قدر ہم تمھیں کہ تمام جگہوں پر مسلم لیگ کے کارکنوں کو یہ محسوس ہو جائے کہ گویا احمدی یہ سمجھ رہے ہیں کہ مسلم لیگ کا امیدوار کھڑا نہیں وا کوئی احمدی امیدوار کھڑا ہوا ہے۔اور اس کام میں مقامی مسلم لیگ کے ساتھ پوری طرح تعاون کریں اور جائزہ ہوگا کہ وہ اس کے میر بن جائیں۔خاکسار مرزا محمود احمد اور اکتوبر ۱۹۳۵ و الفضل ۱۲ اکتوبر ابر یہ مقالہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔اس کے بعد مسٹر جناح نے کوئٹہ میں تقریر کی۔اور مرزا محمود کی پالیسی متعلق انتخابات کو ناقل کو سراہا۔اس کے بعد جب سنٹرل اسمبلی کے ایکشن شروع ہوئے تو تمام مرزائیوں نے مسلم لیگ کو ووٹ دیئے یہاں تک کہ جب مولانا ظفر علیخاں ایڈیٹر میندانا جو کسی زمانے میں مرزائیوں کے شدید ترین دشمن تھے اُن