تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 296
۲۸۷ " صرف مسلم لیگ پارٹی ہی ایسی پارٹی تھی میں کے ساتھ مرزائیوں کو کچھ توقعات تھیں۔کیونکہ ستر ظفر اللہ خاں مرزائی راس نہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر رہ چکے تھے۔مسلم لیگ سے مرزائیوں کے کچھ تعلقات تھے۔وہ بھی خفیہ خفیہ ملاحظہ ہو۔شملہ میں حرم حضرت صاحب خلیفہ المسیح الثانی نے خفیہ پارٹی دی جس میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر مسٹر ملٹرھنگ کی خاتون ، مسٹر جناح ، سروجنی نیڈو ، کپور تھلہ کی شاہی خواتین نہیں ماکولات ومشروبات کا بندو بست تھا۔۔۔۔اس پارٹی میں نواب میار کہ بیگم نے بڑا کام۔پارٹی کیا۔یہ واقعات تخم ریزی ہیں مسلسلہ کی آئندہ شاندار تر قیات کی الفضل ٣ ستمبر ١٩٣٧ء سر ظفر اللہ خان کی صدارت اور خفیہ پارٹیوں کے اثرات مسلم لیگ میں باقی تھے مگر مرزا ہوں کو علانیہ مسلم لیگ سے بینگ بڑھانے کا موقع نہ تھا۔کانگرس اور مسلم لیگ میں تلخیاں بڑھیں اور پاکستان کا مطالبہ شروع ہوا۔پہلے پہلے پنجاب لیگ نے مرزائیوں کو منہ نہ لگایا۔لاہور پاکستان کا نفرنس میں بھی ختم نبوت کے متعلق کچھ ذکر آید مرزائی سیخ پا ہو گیا۔مسٹر جناح سے شکایت کی۔انہوں نے کہہ دیا کہ پنجاب کی زمین نرالی ہے۔فی الحال میری مداخلت جلتی پر تیل کا کام دے گی۔لہذا پنجاب مسلم لیگ کی طرف ہی رجوع کرو۔پاکستان کے مطالبہ کو تقویت کی ضرورت تھی۔پنجاب میں مرزائیوں کے پاس پولیس موجود تھا لا ہور میں پریس مرزائی نواز بھی موجود تھا۔لہذا اس سے بھی پروپیگنڈہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔پہلے پہل پنجاب مسلم لیگ کے صدر نواب ممدوٹ کے علاقہ فیروز پور میں پیر اکبر علی مرزائی کو پاکستان کا نفرنس کمیٹی کا صدر بنایا گیا۔۔۔۔۔ادھر مرزائی در پژه کوشش کرتے رہے کہ مسلم لیگ میں اپنا سکہ جائیں اور مسلم لیگ سے اپنے اسلام کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیں۔۔۔مرزا محمود اور اس کی پراپیگنڈہ ایجنسی نے مسٹر جناح سے خط و کتابت کی۔مسٹر جناح نے یہ نہ سوچا کہ یہ پولیٹیکل پالیسی اسلام کو کیا نقصان پہنچائے گی۔آخر مسٹر جناح نے مرزائیوں کو مسلم لیگ میں شامل کر لیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون مسلم رائے عامہ کو گند چھری لے اس مقام پر رسالہ کی عبارت مرھم ہے۔صحیح تاریخ پڑھی نہیں جاتی (مرتب) +