تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 292
کامیابی کی نظر نہ آئی تو انہوں نے احمدیت کی آڑ لے کر لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لئے انہوں نے ہمارے علاقہ کے ایک گوشہ نشین کو آلہ کار بنایا۔چنانچہ تمام مخالفین اس کے پاس گئے کہ ایک قادیانی میدان میں نکلا ہے۔اور یہ دین اسلام کی پتک ہے آپ میدان میں کلین پیر صاحب خود میدان میں نکلنے کے لئے تیار نہ تھے۔کو ہم نے اپنے علاقہ کی میٹنگ بلائی جس میں تقریباً ۳۰ آدمی تھے جو تمام یا اثر لوگ تھے سیلیکشن بورڈ کا ایک ممبر بھی موجود تھا۔پیر صاحب بھی تشریف لائے تھے۔اور اس سے پہلے لوگوں نے پوری کوشش کی تھی کہ جس طرح بھی ہو پیر صاحب خود کھڑے ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔ایک دوست نے میرا نام پیش کیا۔دوسرے نے پیر صاحب کا نام پیش کیا۔ہمارے ایک دوست نے اعتراض کیا کہ پیر صاحب گوشہ نشین آدمی ہیں یہ ایسے لوگوں کا کام نہیں۔مگر اس کے جواب میں ایک ہے ، دو عصر نے مخالف نے کہا کہ انبیاء اور اولیا ء نے ہمیشہ اسلام کے لئے جہاد کیا ہے۔پیر صاحب ان سے بڑے نہیں ہیں ان کو ضرور کھڑا ہونا چاہیے۔میں نے بحث کو ختم کرنے کے لئے نیز اس خیال سے کہ پیر صاحب خود کھڑے نہیں ہوتے ، اس لئے میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ بحث کی ضرورت نہیں ، میری ضرور کچھ نہ کچھ مخالفت ہوگی اور پیر صاحب اگر خود کھڑے ہوں تو میں وال خود دست بردار ہوتا ہوں اور کوئی اور بھی مقابلہ نہ کرے گا اور لیگ کے ٹکٹ پر صرف پیر صاحب جائیں گے اور اگر پیر صاحب خود کھڑے نہیں ہوتے تو پھر اُن کا نام پیش کرنا یا اس پر بحث کرنا وقت ضائع کرنا ہے۔چنانچہ میرے یہ کہنے کی دیر تھی کہ ہمارے مخالف ان کے پیچھے پڑ گئے اور۔۔ان سے اعلان کر وا دیا کہ میں خود کھڑا ہوتا ہوں۔۔۔اور پیر صاحب بلا مقابلہ لینگ کے ٹکٹ پر منتخب ہو گئے۔۔۔انتخاب سے پہلے پیر صاحب یا تو سخت مخالفت تھے یا انتخاب کی شام کو میرے پاس اندھیرے میں آئے اور کہا۔یہ کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔اب اس کے لئے تم ہی کوئی صورت تکالو چنانچہ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔اب جو کچھ ہو گیا وہ ہو گیا۔اب آپ کو کامیاب کرنا ضروری ہے، بچنا نچہ اس کے لئے کام شروع کر دیا ہے" حضرت سید نا المصلح الموعود نے اس مکتوب پر اپنے قلم سے لکھا ہے۔اس وقت سرحد میں لیگ منسٹری کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔سرحد سے کسی طرح