تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 284
گویا احمدی یہ سمجھ رہے ہیں کہ مسلم لیگ کا امیدوار کھڑا نہیں ہوا کوئی احمدی امیدوار کھڑا ہوا ہے۔اور اس کام میں مقامی مسلم لیگ کے ساتھ پوری طرح تعاون کریں گے اور بھائتہ ہو گا کہ وہ اس کے ممبر ہو بھائیں اگر ان کے نزدیک اور مسلم لیگ کے کارکنوں کے نزدیک ان کا شامل ہونا وہاں کے معالات کے لحاظ سے باہر رہنے سے زیادہ مفید ہو۔جماعت کی تعداد اور اس کے رسوخ کے لحاظ سے سندھ، صوبہ سرعد، یوپی، بنگال اور بہار میں احمدی جماعتیں خوب اچھا کام کر سکتی ہیں۔اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس موقعہ پر بھی اپنے روایتی ایشار اور قربانی کا نمایاں ثبوت مہیا کریں گی " ہے مسلم لیگ کے مورخ اور صدر محمود کا ہم میان مسلمانی در تری پاکستان کے صحت اول کے مورخین نے حضرت مصلح موعود کے اس اہم بیان کو خاص اہمیت دی ہے چنانچہ خالد اختر افغانی نے 1914ء میں حالات قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے ایک اہم کتاب لکھی جو علمیہ بکڈپو بھنڈی بازار بیٹی سے نے شائع کی۔اس کتاب کے صفحہ ۳۱۴ و ۲۱۵ پر اس بیان کا ذکر ملتا ہے۔اسی طرح بر صغیر کے نامور ادیب اور مسلم لیگ کے مستند اور شہرہ آفاق مورخ جناب رئیس احمد جعفری نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب " حیات محمد علی جناح " جو بعد کو " قائد اعظم اور اُن کا عہد کے نام سے بھی شائع ہوئی، میں اصحاب قادیان اور پاکستان کے زیر عنوان لکھا :- اب ایک اور دوسرے بہت بڑے فرقہ ، اصحاب قادیان کا مسلک اور رویہ پاکستان کے بارے میں پیش کیا جاتا ہے۔حقائق ذیل سے اندازہ ہو جائے گا کہ اصحاب قادیان کی دونوں جماعتیں یعنی اور یہ اور قادیانی مسلم لیگ کی مرکزیت ، پاکستان کی افادیت اور مسٹر جناح کی سیاسی قیادت کی معترف اور مدارج ہیں۔جماعت احمدیہ (لاہور) کے امیر جناب مولانا محمد علی صاحب رحمن کا مشہور انگریزی ترجمہ قر آن هاملنگی شہرت کا حامل ہے) نے 4 اکتوبر شاہ کو متعد د ارد و روز ناموں کو حسب ذیل تار ارسال فرمایا : آئندہ انتخابات میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے تمام اصحاب مسلم لیگ کے امید واروں کو ووٹ دیں اور ان کی ہر ممکن مدد کریں کیونکہ موجودہ وقت بہت نازک ہے اور اگر مسلم لیگ کو له الفضل و استاد را اکتوبر مش صفحه ۳ کالم ۲