تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 277 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 277

بلند ہوئی بیچنانچہ حضرت مصلح موعود نے ۲۱ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو آئندہ الیکشنوں کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی" کے عنوان پر ایک مفصل مضمون لکھا جو " الفضل" کی ۲۲ اکتوبر ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں شائع کر دیا گیا۔اس حقیقت افروز مضمون میں حضور نے نہایت واشگاف الفاظ میں مسلم لیگ کے موقف کا مدلل اور محکم ہونا ثابت کرنے کے بعد ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہزاروں احمدیوں کو قطعی ارشاد فرمایا کہ وہ آئندہ آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ کی پالیسی کی ایسی پر زور حمایت کریں کہ مسلم لیگ الیکشن کے بعد ڈٹ کر یہ اعلان کر سکے کہ مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد سیاسی نمائندہ جماعت ہے۔چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا :- " جیسا کہ احباب کو معلوم ہے تھوڑے ہی دنوں میں تمام ہندوستان میں اول تو ہندوستان کی دونو کونسلوں کے ممبروں کے انتخاب کی مہم شروع ہونے والی ہے اور اس کے بعد صوبجاتی انتخابات طہ یہاں ضمنا یہ بتانا بھی مناسب ہوگا کہ اگر چہ جماعت احمدیہ کانگرس کے مقابل آل انڈیا سوال پر ہمیشہ مسلم لیگ ہی کی موید رہی تھی اور اسی کا پراپیگنڈا کرتی تھی۔مگر اُن دنوں پنجاب مسلم لیگ پر بعض ایسے ارکان کا قبضہ ہو گیا تھ جو احمدیوں کو من حیث الجماعت مسلم لیگ میں شامل ہونے کی اجازت تک دینے کے لئے تیار نہ تھے اور جن کا رویہ جماعت احمدیہ کی نسبت حد درجہ اشتعال انگیز تھا۔حتی کہ لاہور مسلم لیگ کے بعض پبلک جلسوں میں جماعت احمدیہ کے خلاف سخت زہر اگلا جا رہا تھا۔مگر یہ بات صرف صوبہ پنجاب کی حد تک محدود تھی۔جہانتک مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کا تعلق ہے وہ احمدیوں سے ہم آہنگ تھی۔چنانچہ یہ مشہور واقعہ ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ لاہور ۳۰ جولائی ؟ نہ میں مولوی عبد الحامد صاحب بدایونی نے ایک قرار داد پیش کرنا چاہی حسین کا مقصد یہ تھا کہ قادیانیوں کو مسلم لیگ کی رکنیت سے خارج کر دیا جائے کیونکہ یہ لوگ با تفاق علماء دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔لیکن قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ قرارداد پیش کرنے کی قطعاً اجازت نہ دی زمیندار ر شعبان شده مطابق یکم اگست و بحوالہ پمفلٹ مسلم لیگ کے شاندار اسلامی کارنا ہے مرتبہ جمعیتہ علما و صوبہ ۴۳۴ او او ” و علی شائع کننده سید انظار الدین قاسمی ) 19 قائد اعظم کے اس جرات مندانہ اقتدام پر سہندو پریس نے بہت فوغا مچایا۔چنانچہ پرتاپ ( ۱۲ اگست ۱۹۴۷) نے لکھا ” گویا بطور مصلحت کم از کم کچھ عرصہ کے لیے غیر مسلم بھی مسلم لیگ میں رہ سکتے ہیں۔اسلام کو پولیٹیکل مصلحتوں کے ماتحت کر دیا گیا ہے اور لطف یہ ہے کہ اسلام کے بڑے بڑے مولاناؤں کو بھی اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جمات نہیں" اسی طرح اخبار و یہ بھارت " (۴) اگست (۲۵) نے طنز کی کہ " قائد اعظم ٹھہرے نئی روشنی کے آدمی ان کی سمجھ میں نہیں آتا ہ حضرت محمد صاحب کے سوائے کسی دوسرے شخص کو پیغمبر ماننے والے مسلمان کیوں نہیں رہتے۔مسلمان تو تب نہر میں جب وہ مسٹر جناح کو اپنا قائد اعظم اور مسلم لیگ کو اپنی نمائندہ جماعت نہ مانیں۔مرنے کے بعد کوئی پیغمبر اسلام کے پاس جائے یا خلیفہ قادیان کے پاس مسٹر جناح اس سے خواہ مخواہ جھگڑا کیوں کریں۔قادیانی مسلم لیگ میں شامل رہے تو فائدہ ہی ہے۔مسٹر جناح کو قیامت کے روزہ رسول خدا کی سفارش کے علاوہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے قادیانی نبی کا پاسپورٹ بھی مل جائے گا " اس تمسخر و استہزاء کے علاوہ جس کا مقصد تحریک پاکستان کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ایک ہندو اخبار " آریہ گزٹ " ( ۲۷ اگست ۱۹۳۴) نے اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے یہ فسانہ بھی تراشتا کہ کشمیر کے بعض احمدی کارکنوں نے مسٹر جناح کو مسلم لیگ اور پاکستان