تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 273 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 273

۲۷ کو آزادی دینے کے لئے تیار ہوں۔انگلستان کی لیبر پارٹی جو نئی پارٹی ہے اور جیسے برسرِ اقتدار آنے کا پہلا موقع ملنے والا ہے یا ممکن ہے کچھ دیر کے بعد ملنے والا ہو ، وہ بھی اعلان کر رہی ہے کہ ہم ہندوستان کو آزادی دینے کے لئے تیار ہیں۔انگلستان کے پریس کا بیشتر حصہ خواہ ٹوری ہو یا لیبر ہو یا لبرل ہو ، شور مچا رہا ہے کہ ہندوستان کو آزادی دے دی جائے۔امریکہ اور فرانس اور دوسرے ممالک مین کا براہ راست ہندوستان سے کوئی واسطہ نہیں وہ بھی شور مچا ر ہے ہیں کہ ہندوستان کو آزادی دے دی جائے۔لیکن اگر انگلستان ہندوستان کو آزادی دینے کے لئے تیار ہے تو ہندوستان کے اپنے بعض سپوت آزادی لینے کے لئے تیار نہیں ہیں پس ان دنوں میں اللہ تعالیٰ سے خاص طور پر دعائیں کرو کہ جن لوگوں کے ہا تھ میں یہ معاملات ہیں اللہ تعالے انہیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ راہ راست پر آجائیں اور ہندوستانی غلاموں کی زینجیروں کو کاٹ کر وہ ہندوستان کو اعلیٰ مقام پر پہنچانے والے ثابت ہوں۔۔اخبار اہلحدیث کے ایڈیٹر مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری نے اس اخبار المحدیث کا تبصرہ خطبہ جمعہ پاس خیال کا برا انبار یا که ما مجالات احمرین بند استان خیال کہ امام کی آزادی کے لئے جس جمات، دلیری اور حق گوئی کے ساتھ مطالبہ کیا ہے اور جس زور اور ولولہ کے ساتھ حکومت کو اہل ہند کا حق آزادی دینے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس کی مثال ہندوستان کے کسی بڑے سے بڑے آزادی پسند کی تقریروں میں بھی نہیں مل سکتی۔چنانچہ انہوں نے لکھا :- اب خلیفہ قادیان کا مسلک بھی سننے کے قابل ہے۔یہ وہی مسلک ہے جو عام کانگریسیوں اور دیگر سیاسی لوگوں کا ہے۔یعنی سیاسی لوگ ہندوستانیوں کو حالت موجودہ میں غلامی کی زلت میں مبتلا سمجھتے ہیں اس لئے آزادی کی کوشش کرتے ہیں۔اس کوشش میں بعض دفعہ وہ اپنی جان پر بھی کھیل بھاتے ہیں۔قید وبند کے مصائب بھی برداشت کرتے ہیں تا کہ غلامی کی زنجیریں کٹ بھائیں اور ہندوستانی آزادی کی ہوا میں خوش و خرم رہیں۔خلیفہ قادیان (نے) حکومت کی جدید حکیم کے متعلق اظہار خیالات کرتے ہوئے خطبہ جمعہ میں ہندوستانیوں کی ذلت غلامی کا ذکر مله " الفضل " ۲۳ احسان یون همایش صفحه ۴ تا ۷ * يو