تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 262 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 262

۲۵۶ انواع کی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور جسم و جان کی قربانی پیش کرنے میں ان کی طرف سے دریغ نہیں ہوا۔علاوہ فوجی اور براہ راست جنگی امداد کے ، سامان حرب اور ذخائر خوراک مہیا کرنے میں بھی ہندوستان نے نمایاں خدمت کی ہے اور قابل قدر نمونہ قائم کیا ہے۔اس سلسلے میں پچیدہ تفاصیل کا فکر کرنے کے بعد میں نے کہا :- سیاست دانایان مملکت کیا یہ امر آپ کے لئے باعث حیرت نہیں کہ ہندوستان کے پچیس لاکھ فرزند میدان جنگ مملکت کی آزادی کی حفاظت کے لئے ہتھیار بند اور کمر بستہ ہوں اور ہندوستان ابھی تک اپنی آزادی کا منتظر اور اس کے لئے ملتجی ہو ؟ شاید ایک مثال اس کیفیت کو واضح کرنے میں محمد ہو سکے۔چین کی آبادی اور رقبہ ہندوستان کی آبادی اور رقبے سے بے شک فزوں تر ہیں۔لیکن وسعت اور آبادی کے علاوہ میں باقی ہر لحاظ سے آج ہندوستان سے کوسوں پیچھے ہے تعلیم ، صنعت ، حرفت، وسائل آمد و رفت ، غرض خوشحالی کے تمام عناصر کے ٹھی سے ہندوستان چین کی نسبت کہیں آگے نظر آتا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ مین تو آج دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور ہندوستان کسی گنتی میں نہیں ؟ کیا اس کی صرف یہی وجہ نہیں کہ چین آزاد ہے اور ہندوستان غیر آزاد ؟ لیکن یہ حالت اب دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ہندوستان بیدار ہو چکا ہے اور آزاد ہو کر رہے گا۔مملکت کے اندر رہ کر اگر آپ سب کو یہ منظور ہو- مملکت کو ترک کر کے اگر آپ اس کے لئے اور کوئی رستہ نہ چھوڑیں ! اور یہ اجلاس سہ پہر کو ہوا تھا۔اجلاس کے ختم ہونے پر جب ہم - CHATHAM - HOUSE سے نکلے تو شام کے اخبار STAR میں میری تقریر کا یہ حصہ لفظ بلفظ موٹے موت میں چھپا ہوا تھا اور لوگ اس پرچے کو بڑے شوق سے خرید رہے تھے۔کچھ عرصہ بعد جناب آصف علی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا۔جب لندن میں تم نے یہ تقریر کی۔پنڈت جواہر لال نہرو اور کانگریس کے چند سر کردہ اراکین جن میں میں بھی شامل تھا اورنگ آباد دکن کے قلعے میں نظر بند تھے اور کانفرنس کے اس اجلاس کی کارروائی کو ریڈیو پر سن رہے تھے۔جب تم نے سیاست دانایان مملکت کہہ کر آواز بلند کی تو ہم سب توجہ سے تمہاری تقریر سننے لگے۔پنڈت نہرو نے تو اپنا کان ریڈیو کے بہت قریب کر دیا۔جب تم نے تقریر ختم کی تو انہوں نے !