تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 258
۲۵۲ کی شکل یہی ہوگی کہ مہندوستان کو آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، کینیڈا اور جنوبی افریقہ کا سا درجہ دیا جائے گا۔ہندوستان کی اسمبلی کو پارلیمنٹ کے منظور کردہ آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔تاکہ بعد میں ہندوستانی آپس میں اتحاد کر کے آئین کو اپنے ڈھب کے مطابق لاسکیں۔بہرحال حکومت کو ایسا اعلان کر دینا چاہئیے جس سے دسمبر تک ہندوستان کی آئین سازی کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہو۔میں نے حکومت برطانیہ سے یہ درخواست کی ہے کہ اگر ہندوستان کی کوئی سیاسی جماعت اس آئین سے علیحدہ رہنے کی خواہش رکھتی ہو تو اس کے لئے ایسا کرنے کی گنجائش دیکھی جائے۔دوسری گنجائشیں بھی رکھی جائیں۔۔۔اس وقت ہندوستان میں ایک مسی است ایسی بھی ہے جو مرکز کی آئین سے اپنے آپ کو الگ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے لہذا برطانوی پیمنٹ کی طرف سے جو آئین منظور ہو اس میں اس امر کی گنجائش ضرور رکھنی چاہیئے بعض برطانوی مدیر کہتے ہیں کہ ہندوستان کے آئین کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد نہیں ہوتا ہچاہیے۔لیکن اُن کا یہ بہانہ بالکل عذر لنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی سیاسی الجھین کامل برطانیہ کو دنیا بھر میں سر خرد کر دیگا۔اگر وہ اس کام میں عہدہ برآ ہو گیا تو دنیا میں اس کی عزت میں چار چاند لگ جائیں گے۔ناکام رہا تو اس کے وقار کو بٹہ لگ جائے گا۔۔۔۔اس نے یونان، یوگوسلاویہ اور پولینڈ جیسے ملکوں کے ناقابل حمل سوالات کو حل کر دکھایا ہے۔کیا ہندوست کا حق برطانیہ پر اس قدر بھی نہیں بقتنا یوگوسلاویہ ، پولینڈ اور یونان کا ہے۔اگر برطانیہ ہندوستان کا مسئلہ بھل کر دے تو اس سے بہت سی الجھنیں حل ہو جائیں گی۔خود انگلستان کی بہبود کا تقاضا بھی یہی ہے " سے چودھری صاحب نے اپنی یہی تجویز اختبار پیکٹیٹر " SPECTATOR "کے ایک مضمون میں بھی نہایت وضاحت سے بیان فرمائی اور آخر میں لکھا کہ برطانوی حکومت کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہندوستان کے مسئلہ کے حل پر دنیا کے امن اور تہذیب کے مستقبل کا دارو مدار ہے اور اس کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ بعض حلقوں کو اس کا احساس نہیں لیتے ینی مسلم لیگ (مرتب) و کے پرپر میں شائع کر دیا تھا۔مندرجہ بالا اقتباسی اسی پرچہ سے ماخوذ ہے۔اس مضمون کا خلاصہ اخبارات میں بھی شائع ہو گیا تھا جس کا ترجمہ الفصل " ١٣ در المان اماری " ۱۳۲۴ میش میں بھی چھپ گیا تھا یہ تہ اس تقریر کے ملخص کا ترجمہ انہی دنوں اخبار الفضل نے اپنے سر امان ہماری سیتی اء