تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 255 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 255

۲۴۹ " کو چکہ دینا چاہتی ہے اور جن لوگوں میں ابھی تک ضمیر باقی ہے وہ ان حالات کو برداشت نہیں کرسکتے ہے اخبار "ریاست - اخبار "ریاست " ( ۲۶ فروری ۱۹۳۵) نے "برطانیہ کے مخلص دوستوں کی آواز" کے عنوان سے حسب ذیل توٹ شائع کیا۔چوہدری سر محمد ظفار خان بھی فیڈرل کورٹ ایک بلند کر سکیٹر شخصیت ہیں اور آپ کیلئے یہ کن نہیں کہ آپ کے دل اور زبان میں فرق ہو چنانچہ چودھری صاحب چونکہ برطانیہ کے مخلص دوست ہیں۔آپ نے اپنے ان اصلی جذبات کو کبھی چھپانے کی کوشش نہ گی۔اور جب کبھی آپ کو برطانوی پالیسی اور برطانوی مدبروں سے اختلاف ہوا تو آپ نے اس اختلات کو بھی کھلے طور پر بیان کر دیا۔چودھری سر ظفر اللہ نے برطانیہ کے مخلص دوست ہوتے ہوئے بحال میں جو بیان دیا ہے وہ برطانوی مرتبوں کی آنکھیں کھولنے کا باعث ہونا چاہئیے۔آپ نے برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔”ہندوستان کی آزادی کی خواہش کو اب نہیں دبایا جاسکتا۔کارروانِ آزادی اب تیزی سے منزل کی طرف رواں ہے۔تم اس کی مدد کر دیا نہ کرو۔آزادی کی منزل میں اس کے قدم اب تقریریں نہیں ہو سکتے۔۲۵ لاکھ ہندوستانی میدان جنگ میں اقوام دولت مشترکہ کی آزادی قائم رکھنے کے لئے جنگ کر رہے ہیں لیکن وہ خود اپنی آزادی سے محروم ہیں “ گاندھی اور کانگریسی لیڈروں کو تو شیر برطانیہ اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ان کی تحریکوں اور مطالب کو دبانے کی کوشش کی بھاتی ہے مگر سر ظفر اللہ تو برطانیہ کے دشمن نہیں اور برطانیہ کے نامزد ہو کر کا من دیتھ ریلیشنز کا نفرنس میں شامل ہوئے۔برطانوی قوم اگر اپنے ان مخلص دوستوں کی رائے پر بھی توجہ نہ کرے تو اس قوم کی بدنصیبی پر کیا شک ہے۔اے کاش! برطانیہ کے مدبر سر ظفر اللہ کے اس بیان کو آنکھیں کھول کر پڑھیں۔ہندوستان کو آزادی دی جائے" سے اور سکھوں کے مشہور گھر لکھی رسالہ " پر بیت ، لڑی نے اپنے مارچ اور رسالہ پریت لڑکی کے پرچہ میں سرظفر اللہ کے زیر عنوان لکھا۔لنڈن میں ڈومینز کی کانفرنس ہو رہی ہے۔سر ظفر اللہ ہندوستان کے نمائندے ہیں۔اور مجھے بحوالہ " الفصل" در امان ماره صفحه ۶ کالم " ۶ ۳