تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 10
۱۰ عليه الصلوة والسلام کی آمد آمد پر لگی ہوئی تھی کہ اس اثناء میں حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوئی نے آگر اطلاع دی کہ حضرت اقدس نے مجھے ایک پیغام دے کر روانہ کیا ہے اور وہ اس طرح سے ہے کہ میں نے حضرت خلیفتہ اللہ علیہ السلام کی خدمت میں تشریف آوری کے واسطے عرض کی تھی، آپ نے فرمایا۔یکن اس وقت بیمار ہوں حتی کہ چلنے سے بھی معذور ہوں لیکن وہاں حاضر ہونے سے بہت بہتر کام یہاں کر سکتا ہوں کہ اُدھر جس وقت افتتاح کا جلسہ شروع ہوگا میں بہت الدعا میں جا کہ دعا کروں گا " یہ کلمہ اور وعدہ حضرت خلیفہ اللہ علیہ السلام کا بہت خوش گئی اور امید دلانے والا ہے۔اگر آپ خود تشریف لاتے تو بھی باعث برکت تھا اور اگر اب نہیں لائے تو دُعا فرما دیں گے اور یہ بھی خیر و برکت کا موجب ہو گی " حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اسی قدر کلمات فرما کہ کرسی پر بیٹھ گئے لیلے آپ کے بعد حضرت نواب محمد علیخاں صاحبت رئیں مالیر کوٹلہ ڈائریکٹر تعلیم الاسلام کا لج نے مختصر تقریر کی جس میں فرمایا :- اس کالج کی غرض کوئی عام طور پر یہ نہیں ہے کہ معمولی طور پر دنیا کی تعلیم ہو اور صرف معاش کا ذریعہ اُسے سمجھا جاوے بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ ایک حاکم اس پاک سلسلہ کی تعلیم سے مستفیض ہو جو کہ خدا نے قائم کیا ہے۔دنیوی تعلیم کا اگر کچھ حصہ اس میں ہے تو اس لئے کہ مروجہ علوم سے بھی واقفیت ہو جس سے تعدا تعالے کی معرفت میں مدد ملے ورنہ اصل غرض دین اور دین کی تعلیم ہی ہے اور ایک بڑی غرض یہ بھی ہے کہ اپنی احمدی جماعت کے کمسن بچے ابتدار سے دینی علوم سے واقف ہوں اور حضور مسیح موعود کے فیضانِ صحبت سے فائدہ اُٹھا دیں اور بڑے ہو کر اس پاک چشمہ سے ایک عالم کو سیراب کریں جس سے وہ خود سیراب ہو چکے ہیں۔یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ کالج کی موجودہ حالت سب احباب پر ظاہر ہے۔اس کے کارکنوں نے جو آجتک کیا ہے وہ کسی انسانی طاقت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ سب کچھ محض خدا کے فضل سے ہی ہوا ہے امید ہے جیسے کہ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا ہے کہ حضرت اقدس نے دُعاؤں کا وعدہ کیا ہے خدا کی ذات سے بڑی امید ہے کہ یہ کالج بہت جلد ایک له اختیار" البدر" ۲۴ جون ۳ یه صفحه ۱۵۴ کالم ۳*