تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 247
۲۴۱ اور دونوں مل کر دنیا میں آئندہ ترقیات اور امن کی بنیا دوں کو مضبوط کریں۔ات انگلستان تیرا فائدہ ہندوستان سے منع کرنے میں ہے۔۔۔۔دوسری طرف میں ہندوستان۔، کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی انگلستان کے ساتھ اپنے پرانے اختلافات کو پھیلا دے“ نیز فرمایا :- میں اپنی طرف سے دنیا کو صلح کا پیغام دیتا ہوں میں انگلستان کو دعوت دیتا ہوں کہ آؤ ! اور ہندوستان سے صلح کرلو اور میں ہندوستان کو دعوت دیتا ہوں کہ بھاؤ ! اور انگلستان سے صلح کر لو اور میں ہندوستان کی ہر قوم کو دعوت دیتا ہوں اور پورے ادب و احترام کے ساتھ دیکھو دیتا ہوں بلکہ لجاجت اور خوشامد سے ہر ایک کے دعوت دیتا ہوں کہ آپس میں صلح کر لو اور میں ہر قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ جہانتک دنیوی تعاون کا تعلق ہے ہم ان کی باہمی صلح اور محبت کے لئے تعاون کرنے کو تیار ہیں اور میں دنیا کی ہر قوم کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم کسی کے دشمن نہیں۔ہم کانگرس کے بھی دشمن نہیں ، ہم ہندو مہاسبھا والوں کے بھی دشمن نہیں ، مسلم لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں اور زمیندارہ لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں، اور خاکساروں کے بھی دشمن نہیں اور خدا تعالے جانتا ہے کہ ہم تو احراریوں کے بھی دشمن نہیں۔ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور ہم صرف اُن کی ان باتوں کو برا مناتے ہیں جو دین میں دخل اندازی کرنے والی ہوتی ہیں۔ورنہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں اور ہم سب سے کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دو کہ ہم خدا تعالے کی اور اس کی مخلوق کی خدمت کریں۔ساری دنیا سیاسیات میں الجھی ہوئی ہے۔اگر ہم چند لوگ اس سے علیحدہ رہیں اور مذہب کی تبلیغ کا کام کریں تو دنیا کا کیا نقصان ہو جائے گا حضرت امیر المومنین نے انگلستان و ہندوستان کے نام صلح کا پیغام دینے کے ساتھ ہی یہ خبر دی کہ اگرچہ آپ کی دعوت مصالحت کا سیاسی دنیا پر بظاہر کوئی اثر نہیں ہو سکتا مگر بخدا تعالے قادر ہے کہ وہ آپ کی آواز کو بلند کرنے اور موثر بنانے کا انتظام فرما دے۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- اس میں شبہ نہیں کہ میرا ایسی نصیحت کرتا اس زمانہ میں جبکہ ہماری جماعت ایک نہایت قلیل جهت ہے بالکل ایک بے معنی سی پچیز نظر آتی ہے۔میری آواز کا نہ ہندوستان پر اثر ہو سکتا ہے اور نہ انگلت ات سل "افضل" از مسلح جنوری ۱۳۳۳ ش صفحه کالم ۳ به