تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 246
۲۴۰ کو آزاد کرنے کا سوال ایک عملی سیاست کے طور پر انگلستان کے سیاسی مرتبوں کے سامنے نہیں آسکتا۔علاوہ ازیں لارڈ ویول جو کر سپس مشن کی آمد کے وقت ہندوستان کی فوجوں کے کمانڈر انچیف تھے اور اب وائسرائے ہند کے عہدہ پر تھے بہندوستانی حقوق آزادی کے عموماً اور تحریک پاکستان کے خصوصاً بہت مخالف سمجھے جاتے تھے۔چنانچہ وہ کار سمبر کو ایسوسی ایٹڈ چیمبر آف کامرس کے سپاسنامہ کا جواب دیتے ہوئے یہاں تک کہہ چکے ور اگر ہندوستان سیاسی اختلافات کے بخار میں مبتلا رہا اور اس کے سیاسی ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ اس کے جسم پر بڑا آپریشن ہونا چاہیے جیسا کہ پاکستان - توہند دستان ایک بہترین موقع کھود۔دے گا اور یہ عظیم ملک خوشحالی اور فلاح کی بنگ میں ناکامیاب رہے گا مسلہ ان مخدوش اور سراسر نا موافق حالات میں جبکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ہندوستان اور انگلستان کے درمیان مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہونے والی ہے اللہ تعالیٰ نے اسیروں کے رستگار حضرت سیدنا المصلح الموعود کو تحریک فرمائی کہ انگلستان اور ہندوستان کو سمجھوتہ کی دعوت دیں اور انہیں توجہ دلائیں کہ نہیں آپس میں صلح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس آسمانی دعوت کو جو مختلفت الہاموں اور کشوف اور رویا کے نتیجہ میں تھی۔اگر ہندوستان کی آزادی کا روحانی پس منظر قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کیونکہ اس کے بعد نہ صرف ہندوستان بلکہ انگلستان کی ملکی سیاسیات میں میکا یک غیر معمولی تغیرات و انقلابات پیدا ہو گئے بلکہ صرف ڈھائی سال کے نہایت قلیل عرصہ میں ہندوستان غیر ملکی تسلط سے آزاد ہو گیا اور پاکستان جیسی اسلامی مملکت معرض وجود میں آگئی۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ۱۲ صلح جنوری ۳۳ پر میش کو مسجد اقصی حضرت مصلح موعود کا پیغام صلح قادیان کے منبر پر ایک انقلاب انگیز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انگلستان یا ان کی ایک تالاب به اور ہندوستان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- "وقت آگیا ہے کہ انگلستان، برٹش ایمپائر کے دوسرے ممالک بالخصوص ہندوستان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ صلح کرنے کے لئے پرانے کھگڑوں کو بھلا دے " قائد اعظم اور اُن کا عہد " صفحہ ۱۳۴۴ از رئیس احمد صاحب جعفری ندوی ناشر مقبول اکیڈمی شاہ عالم گیٹ لاہو) " الفضل" ۲۳ احسان /جون سرمایش صفحه ۱ به ۲۱۹۴۵