تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 239
۲۳۳ خود مسٹر گرین نے اپنے رسالہ ”دی کنگڈم نیونه "بابت ماہ جون ۱۹۴۷ء میں مبلغ اسلام کی نمایاں کامیابی کا اعتراف ان الفاظ میں کیا :- ایڈیٹر ان ایام میں ہر جمعہ کے روز 4 بجے شام سے ہائیڈ پارک میں امام مسجد لنڈن سے پبلک مباحثہ کرتا ہے جو اس ملک کے مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کا نمائندہ ہے۔"But who consists of the best order of the faith being the most educated and cultural " لیکن وہ اسلام کا تعلیم یافتہ اور مہذب ہونے کے لحاظ سے بہترین فرقہ ہے مختلف طبقات کے لوگ حاضر ہوتے ہیں جن کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ ہوتی ہے اور اڑھائی گھنٹے تک مسلسل سنتے ہیں" "An achievement rasely experienced Hyd Park۔" in یہ ایک ایسی بات یا ایسی کامیابی ہے جو ہائیڈ پارک میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔میباشد کے اختتام پر فریقین حاضرین کے سوالات کا جواب دیتے ہیں۔لہ اٹلی میشن ٹلی میں جنگی قید کے مصائب سے رہائی پانے کے بعد ملک محمد شریف صاحب مبلغ اٹلی کا پہلا خط منظر خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود کی خدمت میں ماہ استاد / اکتوبر سے ہی پیش کو پہنچائے مشرقی افریقی شن ۱۴ فتح ایمبر ہش کو بورا (مشرقی افریقہ) کی عظیم الشان مسجد الفضل" کی تقریب افتتاح منعقد ہوئی۔اس موقع پر سر خلیفہ بن جار وب سلطان زنجبار - ہز ایکسیلنسی گورنر چیف سکوٹری ، دیگر اعلی سرکاری حکام، پولینڈ اور ہالینڈ کے قونصل اور مختلف مذاہب کے مشہور و معروف اصحاب نے پیغامات ارسال گئے۔علاوہ ازیں لنڈن ، قاہرہ، لیگوس ، حیفا ، بغداد ، عدن بمبئی ، ماریشس اور سالٹ پانڈ کی احمدیہ جماعتوں کی طرف سے بھی پیغامات آئے۔شیخ مبارک احمد صاحب انچارج مبلغ نے یہ سب پیغامات پڑھ سه " الفضل" الفاء / التويد ش صا یہ اس مکتوب کا متن چھپ گیا تھا۔