تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 230 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 230

۲۲۴ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عظمت شان کا بھی اس رنگ میں اس پیشگوئی میں ذکر ہے کہ آپ کا مرتبہ اتنا بلند اور آپ کی شان اتنی ارفع ہے کہ آپ کی نسل ایک منٹ کے لئے آپ کی طرف منسوب نہ ہونا برداشت نہیں کرے گی اور آپ کی طرف منسوب ہونے میں ہی ان کی شان اور ان کی عظمت بڑھے گی۔پس اس پیشگوئی میں تعالی اس بات کا ہی ذکر نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی اولا کثرت سے ہوگی بلکہ یہ بھی ذکر ہے کہ وہ روز بروز بڑھے گی اور وہ اولاد خواہ کتنے ہی اعلیٰ متقادم اور اعلیٰ مرتبہ تک جا پہنچے اور خواہ اُن کو بادشاہت بھی حاصل ہو جائے پھر بھی وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کریگی۔۔صلح اجنوری کو پہلی بار لاوڈ پیکر نصب کر کے تبلیغ احمدیت کی گئی۔چنانچہ اس روز نماز جمعہ سے قبل قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود کی نظمیں نشر کی گئیں۔نیز مستری محمد اسمعیل صاحب صدیقی نے مختصر سی تقریر میں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام کہ " میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا " جہاں مبلغین اور تحریروں کے ذریعہ دنیا کے کناروں تک پہنچایا جار ہا ہاں انشاء اللہ ایک دن آلہ نشر الصوت کے ذریعہ بھی دنیا کے کناروں تک پہنچایا جاسکے گا۔آج اس کی ابتداء اس طرح کی بجا رہی ہے۔اس آلہ کے ذریعہ قادیان کے کناروں تک حضور کی آواز پہنچ رہی ہے۔چنانچہ یہ آواز صرف قادیان کے وسیع محلہ جات میں ہی نہیں بلکہ بعض ملحقہ دیہات میں بھی صفائی کے ساتھ سنی گئی۔پھر نماز مغرب کے بعد اس آلہ پر جناب مولوی ابوالعطاء صاحب نے تقریہ فرمائی جس میں بتایا کہ ہر سال اور ہر دن جو پڑھتا ہے وہ قادیان میں رہنے والے غیر احمدیوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہے۔انہیں چاہیے کہ وہ سوچیں اور غور کریں۔at آخر میں نماز عشاء کی اذان مولوی بشیر الدین صاحب نے دی ال اس سال قادیان میں جو زائرین آئے ان میں سر میٹرک سپنی چیف جسٹس فیڈرل کورٹ زائرین قادیان آن انڈیا، مسٹرسی کنگ کشنزلاہور ڈویژن خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔له " " الفضل ۱۲ صلح / جنوری ۱۳۳۳ ش صفحه ۳ له الفضل" و صلح جنوری ۱۳۲۳ ش صفحه ۲ ۰