تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 228
نہایت راسخ تھا اور میں نے بارہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کی کتب سے متعدد مسائل کے متعلق سوالہ جات کا استفادہ آپ سے کیا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء سلسلہ عالیہ حقہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام، حضرت خلیفہ امسیح الاول حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی اور خاندان نبوت کے ساتھ آپ کو ایک والہانہ محبت اور عقیدت تھی۔اور جب آپ ان میں سے کسی کا ذکر خیر فرمایا کرتے تھے تو ہر سننے والا بخوبی اندازہ کر سکتا تھا کہ آپ کے دل میں ان کے لئے کس قدر بے پناہ عشق اور محبت کا جذبہ مویریا تھا۔نظام سلسلہ کا احترام آپ کی فطرت ثانیہ تھا اور دوسروں میں بھی اسی بعد یہ کو پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کے وصال کے موقعہ پر جب جماعت میں اختلاف ہوا تو آپ قادیان موجود تھے اور ان اولین مبالعین میں تھے جن کے متعلق غیر مبالعین نے کہا تھا کہ چند نوجوانوں نے مولوی محمد علی صاحب کی امامت میں نماز ادا نہ کی۔ماموں میان اس امر کو ہمیشہ فخر سے بیان فرمایا کرتے تھے مسائل کے لحاظ سے تو آپ کا ایمان کبھی بھی بادۂ صداقت سے نہیں ہٹتا بچنا نچہ اختلاوت کے وقت آپ نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ یہ خدا تعالے کا کام ہے حضور دلیری سے اس کام کو جاری رکھیں وہ حضور کے ساتھ ہیں (حضرت اقدس نے اس واقعہ کا ذکر اپنے ایک خطبہ میں بھی فرمایا ہے، ماموں جان خود بھی اس معاملہ میں خوب تبلیغ فرمایا کرتے تھے اور ایک بہت بڑی حد تک آپ کی ان مجاہدانہ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آپ کے علاقہ میں غیر مبا لعین کا قدم کبھی نہیں حجم سکا اور سوائے اس پہلی کوشش کے جو ایک مبلغ بھیج کر کی گئی اور جس میں ان کو سخت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، غیر مبالعین نے کبھی اور کوشش اس علاقہ میں کی ہی نہیں لے حضرت منشی محمدحسین صاحب کا تب قادیان روفات ۲۵ فتح ا سمیه ش) حضرت منشی صاحب ان خوش نصیب صحابہ میں تھے جن کو اختار العلم ، بدر اور افضل کی بہت عرصہ تک کتابت کرنے نیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تازہ دھی لکھنے کا شرف حاصل ہوا کے له الفضل ۲۰ صالح اجنوری کا ربوہ آپ ہی کے ساختہ ادے ہیں : كاتب الفضل