تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 227
۲۲۱ سلوک کیا کہ سوائے دو یا تین کے باقی سب مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں پہلے گئے لیکن ماموں بجھانا قوم کی برادری کے اکثر افراد نے بعد دریافت مزید حالات اپنی بیعت کے متعلق بھی حضور کی خدمت میں لکھنے کو کہہ دیا اور وہ سب اسی وقت سے احمدی ہیں۔فالحمد للہ علی ذالک۔اس جمعہ سے پہلی رات خواب میں آپ نے دیکھا کہ پانچ سوار سبز رنگ کے عمامے پہنے آپ کی بیٹھک میں داخل ہوئے ہیں اور آپ کے دریافت کرنے پہ کہ یہ کون بزرگ ہیں ان میں سے ایک صاحب نے فرمایا کہ حضرت مرزا صاحب قادیان والے ہیں۔اسی رات ایک اور شخص ساکن دانہ زید کا جس کو جلال مہاراں والا “ کے نام سے پکارا جاتا تھا نے بھی خواب میں پانچ سبز عمامہ پوش سوار اپنے گھر کے پاس سے گزرتے دیکھے جن میں سے ایک نے ماموں جان مرحوم کی بیٹھک کا راستہ دریافت کیا۔بجلال مذکور نے صبح ماموں جان کو اپنا خواب سنایا اور ماموں جان نے اُس سے ان بزرگوں کا مکلیہ وغیرہ دریافت کرنے پر اپنے ہی دیکھے ہوئے اصحاب کا علیہ شنا۔چونکہ آپ نے اپنی رڈیا کا ذکر کسی سے بھی نہیں کیا تھا اس لئے آپ کو صداقت احمدیت کا اور بھی پختہ یقین ہوا۔اور آپ نے اسی دن خطبہ میں اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔تھوڑے ہی دنوں بعد مولوی فضل کریم صاحب مرحوم موصوف ، ماموں جان اور نیو ہدای پیر محمد صاحب مرحوم ساکن قلعه صو با سنگھ قادیان حاضر ہوئے۔وہاں ماموں جان نے اپنے خواب والے بزرگوں کو پہچان لیا (جن میں سے حضرت مسیح موعود ، حضرت حکیم الامت خلیفہ المسیح الاول اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے نام مجھے یاد ہیں۔باقی دو کے نام یاد نہیں رہے، اور حضور کے دست اقدس پر بیعت سے مشرف ہوئے۔اس دن سے لے کر اپنی وفات تک آپ نے اپنا قدم ہمیشہ آگے ہی بڑھایا۔دعا ہے کہ اللہ تعالے آپ کو جنت میں بلند مقام عطا فرمائے اور جس طرح آپ نے زندگی بھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی کو اپنے لئے سب سے بڑا فخر سمجھا اسی طرح اللہ تعالے آپ کو قیامت میں بھی حضور کی غلامی اور محبت میں اُٹھائے۔سلسلہ کے لڑ پھیر کے مطالعہ کا آپ کو بہت شوق تھا اور تمام اہم تصانیف آپ نے پڑھتی ہوئی تھیں اور اختبارات اور رسائل کا با قاعدہ مطالعہ رکھتے تھے۔دینی مسائل کا علم آپ کے