تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 226 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 226

۲۲۰ -۹- حضرت چودھری محمد عبد اللہ صاحب دات زید کا تحصیل پسر در ضلع سیالکوٹ A و عادت شده وفریبا بیعت : بون شاه وفات ، در اخاها اکتوبر پیش هر ستر سال) حضرت چودھری نصراللہ خان صاحب کے برادر نسبتی اور دانہ زید کا کے امیر جماعت تھے۔چودھری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاء حال امیر جماعت احمدیہ لاہور ان کے حالات قبول احمدیت اور اخلاق و شمائل پور روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔سلسلہ عالیہ حقہ سے آپ کا تعارف پسرور سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب سے (جو احمدی تھے ، ہوا۔اُن سے ہی آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی تصنیف لے کر مطالعہ کی اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ حضور واقعی اللہ تعالے کی طرف سے اور حق پر ہیں۔دانہ زید کا سے ایک میل کے ملالہ پر بجانب مغرب ایک قصبہ قلعہ صوبا سنگھ ہے جہاں اس وقت مولوی فضل کریم صاحب مرحوم اہل حیرت خطیب اور امام الصلوۃ تھے اور حکمت اور علم دین کی وجہ سے تمام ارد گرد کے علاقہ میں معزز تھے ہمارے ننھیال بھی کیونکہ اہل حدیث تھے اس لئے ماموں جان اور مولوی صاحب موصوف کے تعلقات دوستانہ تھے۔اسی زمانہ میں مولوی صاحب موصوف بھی انہی ہیڈ ماسٹر صاحب کے ذریعہ احمدیت سے متعارف اور صداقت کے قائل ہو چکے تھے گو انہوں نے ابھی کسی سے ذکر نہیں فرمایا تھا۔ماموں جان نے مولوی صاحب سے ذکر کیا کہ مسیح اور مہدی کے ظہور کی علامات تو سامنے آچکی ہیں اور یہ ہو نہیں ہو سکتا کہ مدعی کے دعوے کے بغیر ہی گواہ شہادت دینی شروع کر دیں۔خاص کر ایسے گواہ جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے تصرف میں ہوں۔اس لئے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مدعی بھی مبعوث کیا گیا ہو۔مولوی صاحب نے جب ایک معزز اور علاقہ کے بار سوخ زمیندار سے اپنے میلانات کی تائید ہوتی دیکھی تو آپ نے بھی اتفاق کیا اور پھر اس امر پر دونوں متفق ہوئے کہ وہ مسیح اور مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام ہیں چنانچہ دونوں اصحاب نے فیصلہ کیا کہ قلعہ صوبا سنگھ میں مولوی صاحب اور دانہ زیرہ کا میں ماموں جان آئندہ جمعہ کے دن علامات ظہور مہدی پر خطبہ پڑھیں اور اپنے احمدی ہونے کا بھی اعلان کر دیں۔اُدھر مولوی صاحب موصوف نے قلعہ مو با سنگھ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دلوئی کی تصدیق کی اور ادھر اپنے گاؤں میں ماموں جان نے ، مولوی صاحب سے تو مقتدیوں نے یہ