تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 225 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 225

۲۱۹ - کریں تو اس لائق نہیں کہ کچھ بیان کر سکوں۔خیر آخر جمعہ کا وقت آگیا اور خطبے کی اذان ہو گئی تو میں مارے رعب کے سب آدمیوں کے شمال میں بیٹھ گیا۔۔۔۔جب خطبے کی اذان ہوئی میں تو فرمایا۔حافظ صاحب کہاں ہیں ؟ آخر مجھے مجبوراً لایا گیا۔میں نے جھک کو عرض کی کہ حضور میں گنہگار اس لائق نہیں کہ حضور کے سامنے کچھ بیان کر سکوں یا امامت کو اسکوں محضور نے میرا ہاتھ پکڑ کر مصلے پر کر دیا اور فرمایا۔آپ خطبہ پڑھیں میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں یا فرمایا کروں گی چنانچہ میں کھڑا ہو گیا۔مجھے خوب یاد ہے کہ میں نے اس وقت سورہ فرقان کا پہلار کوع۔۔آخر تک پڑھائیں حضرت حافظ صاحب قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے اور عرصہ تک مسجد اقصی میں امامت کے نسرائض عمرہ انجام دیتے رہے۔آخری عمر میں صاحب فراش ہو گئے مسلسلہ احمدیہ کے مشہور پنجابی واط خوش بیان تھے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر زمانہ جل گانے میں اکثر آپ کی تفت دید بجھا کرتی تھیں۔انداز بیان نہایت موثر ہوتا۔" یا قوت خالص" ، " سفرنامه ماریشس » ، حمد باری ، سیرت رسول ہدایت مقبول وغیرہ چھوٹے چھوٹے پنجابی رسائل آپ نے لکھے۔۸- حضرت سید محمد صادق صاحب بین لارون ریاست کشمیر برادراکبر حضرت مولاناسید محمد سرور شاه صاحبین وفات : ظهور اگست ش ) ۱۳۳۳ ر بیعت : ۹امه حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا :- میرے قادیان آنے کے تھوڑی مدت بعد مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کشمیر بھی تھا تو میں ان بھائی صاحب مرحوم سے ملنے گیا۔چونکہ ہمارا خاندان پیروں کا خاندان ہے اس لئے میں نے اپنے خاندان میں بالواسطہ تبلیغ کی اور جلدی ہی اللہ تعالیٰ نے اس سفر میں ان کو شرح صدر عطا کیا۔اور اسی وقت انہوں نے بیعت کر لی۔مجھے مرحوم سے اور مرحوم بھائی صاحب کو مجھ سے خاص محبت تھی" ے رہبر روایات صحابہ نمبر ۱۱ صفحه ۲۴۵ (۲۴۶ ؛ ے "الحکم ۱۷ دسمبر ائر صفحه ۱۳ کالم ۳ سے مؤلف اصحاب احمد کی تحقیق کے مطابق حضرت مولانا سید مهد سرور شاہ صاحب نے پریل یا مئی سلسلہ میں ہجرت فرمائی اور سفرکشمیر سے ۲۰ نومبرسٹر واپس قادیان تشریف لائے ( اصحاب احمد جلد تیم حصہ دوم صفحه ۱۶ - ۱۷ حاشیه)