تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 7
مدرسہ کئے بچوں میں ان پاک تاثیرات کا پیدا ہو جانا ایک غیر معمولی امکان والیاری قیام کا لج کیلئے دلی تحریک اور مسرت انگیز اور اطمینان بخش بات تھی جس نے دور کے منتظم مجمہ اللہ حضرت نواب محمد علیخاں صاحب (رئیس مالیر کوٹلہ، اس کے ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی شیر علی صاحب اور ادارہ سے متعلق دوسرے بزرگوں کے دل میں ہائی سکول کو کالج تک ترقی دینے کا پُر زور خیال پیدا کر دیا۔اور بالاتر کالج ہماری کئے جانے کا فیصلہ ہو گیا۔جب یہ معاملہ حتمی طور پر طے پا گیا تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے رہو قبل ازیں مدرسہ کی انتظامیہ کمیٹی نہیں تعلیم الاسلام قادیان کے سکرٹری بھی رہ چکے تھے اور فروری ۱۹۰۳ ء کو ایک مفصل مضمون لکھا بحر مولوی صاحب نے اپنے اس مضمون میں رہے تعلیم الاسلام کالج کی قدیم تاریخ کا پہلا ورق قرار دیتا چاہیئے ) مدرسہ تعلیم الاسلام کے تو نہالوں کی خالص اسلامی و روحانی ماحول میں ہونے والی تربیت و اصلاح کے عمدہ نتائج و اثرات کا ذکر کیا اور پھر کالج کے پس منظر اور اس کے فوری تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر " فرمایا : فرض لڑکیوں کی اس خوشنما اور امید افزا حالت کو دیکھ کر جو انٹرنس کی منزل میں پاؤں رکھنے کے ساتھ ان میں پیدا ہو گئی مدرسہ کے کارکنوں کے دل میں یہ خیال یا حوصلہ پیدا ہوا۔اور غور و فکر کے بعد امادہ نے عزم کی صورت پکڑ لی کہ مدرسہ کو کالج بنایا جائے اس لیئے کہ انٹرنس سے تک بھی بہت قام اور نا تمام عمر اور تجربہ ہوتا ہے اور اگر دو برس ایف۔اے کی تقریب کے اور اگر تعد ا چاہے تو دو برس اور بی۔اے کی تحریک سے اور ایک سال اور ایم۔اے کی وقت سے ہمارے پاس رہ سکیں تو پھر خاصے عمر رسیدہ ، تجربہ کار، قوی دل اقتدار ہو کہ یہاں سے نکلیں گے۔سردست تو کالج ایف اے تک ہوگا اور اس میں بھی سارا دار و مدار تو کل پر دورنہ حق تو یہ تھا کہ آغاز ہی میں پورا کالج بنایا جاتا۔ممکن ہے کہ بعض لوگ اس کا رروائی کو جلد بازی پر محمول کریں اور جوش سے کہہ دیں یا رائے دیں کہ ابھی وقت قلت سرمایہ کے سبب سے اس امر کا مقتضی نہیں کہ کالج جاری کیا جائے مگر اس رائے زنی میں وہ خود جلد بازہ اور غور نہ کرنے والے ٹھہریں گے اس لئے کہ انٹرنس تک محدود ہو کر رہنے میں مدرسہ کی وہ غرض پوری نہیں نے رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۲ صفحه ۲۳۶ به