تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 219
۲۱۳ جماعتوں کے ساتھ مخالفین کی طرف سے ہوتا رہا ہے۔اس قسم کی منافقتیں ضروری ہیں۔اور اُن سے گھبرانا مومن کی شان کے خلاف بات ہے۔ان پر بگڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔دوستوں کو دُعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالئے اپنے فضل سے کوئی نشان دکھائے ملے صبر و تحمل کی اس حکیمانہ تبلیغ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلسہ کے مبارک ایام بخیر و خوبی گذر گئے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔اس تعلق میں سیدنا المصلح الموعود نے جلسہ کے خاتمہ کے معا بعد ۲۹ فتح اردسمبر کو تحریک فرمانی کہ یکم جنوری ۹۷ سے چالیس دن تک ہماری جماعت کے دوست متواتر اور باقاعدہ اللهُم إِنَّا تَجْعَلُكَ فِي نُحورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ من شعر درہم کی دُعا عشاء کی آخری رکعت میں پڑھا کریں۔اس دُعا کے معنے یہ ہیں کہ اسے خدا ! ہم پر دشمن حملہ آور ہوا ہے۔بہمارے پاس تو مقابلہ کی طاقت نہیں۔اس لئے ہم دشمن کے مقابلہ میں تجھے پیش کرتے ہیں۔تو ہی ان کے حملہ کا جواب دے وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِہم ہمیں تباہ کرنے کے لئے دشمن جو شرارت کرتا ہے اس کے بد اثرات سے ہمیں بچا۔یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے " فصل چهارم جلیل القدر صحابة انتقال اس سال جن صحابہ کا انتقال ہوا، اُن میں سے حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ کے حالات فصل دوم میں گزر چکے ہیں۔باقی صحابہ کے مختصر حالات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :- ۱- شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر حکم ) ولادت : ۲۸ اکتوبر شدید وقات ۲۰۰ تبلیغ فروری اش بوقت شب ) سلسلہ احمدیہ کے شعلہ بیاں مقرر، بلند پایہ مولف اور قابل اور پر جوش اخبار نویس تھے جنہیں بلند خیالی، اولوالعربی الفضل " یکم مسلح جنوری ۳۳ مه مش صفر اک ۳ : ۲ " الفضل" - فتح ( دسمبر ۳۳۳ پیش صفحه ۲ کالم ۳ * " الفضل" ۲۴ تبلیغ / فروری ۱۳۳۳ میش صفحه ۵ را بتدائی سوانح کیلئے ملاحظہ ہو ان کی کتاب یہ قادیان ، صفحہ ۶۴۳۰۶۲) ۱۹۴۳