تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 203 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 203

196 شدید نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہوئے انگریزی حکومت کی مسلسل خاموشی پر سخت تنقید کی اور حکومت سندھ کی کاروائی کو غلط قرار دیتے ہوئے فرمایا :۔"میرے نزدیک ستیارتھ پرکاش اس وقت ہی قابل ضبطی تھی جب وہ شائع کی گئی۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اسے ضبط کیوں کیا گیا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اس کے ضبط کرنے میں گورنمنٹ اتنی دیر کیوں خاموش رہی۔پھر جس قانون یعنی ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کو ضبط کیا گیا ہے یہ ایک عارضی قانون ہے۔اس کا نتیجہ صرف یہی ہو گا کہ مسلمانوں اور آریوں میں لڑائی جھگڑا اور شورش تو پیدا ہو جائے گی مگر جب جنگ کے خاتمہ پر ڈیفنس کا قانون منسوخ ہو گا ساتھ ہی ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کی ضب علی کا حکم بھی منسوخ ہو جائے گا۔پیس ایسے قانون کے ماتحت اس کتاب کو مضبوط کرنا جو عارضی ہے صرف فساد پیدا کرئے گا اور نتیجہ کچھ بھی نہ نکلے گا پس اول تو گورنمنٹ کو چاہیے تھا کہ اس کتاب کو اس وقت ضبط کرتی جب یہ شائع کی گئی تھی۔اتنی دیر کیوں کی گئی۔پھر اگر اب ضبط کرنا تھا تو عام قانون کے ماتحت ضبط کرتی۔اور تین طرح میں نے بتایا ہے گورنمنٹ یہ دلیل دیتی کہ ہم اس وجہ سے اس کتاب کو ضبط کرتے ہیں کہ اس میں ایسی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کی گئی ہیں جو ان مذاہب میں نہیں پائی جاتیں اور ایسی باتیں کہا کہ دوسرے مذاہب کا مذاق اُڑایا گیا ہے اور اشتعال دلایا گیا ہے جو خود کتاب لکھنے والے کے مذہب میں بھی پائی بھاتی ہیں۔اگر سندھ گورنمنٹ اس طرح کرتی کہ عام قانون کے ماتحت اس کتاب کو ضبط کرتی اور اس میں یہ دلیل دیتی ہو میں نے بیان کی ہے تو آریوں نے جو آب اینٹی نظر آن تحریک شروع کر رکھی ہے۔یہ تحریک جاری کرنے کی انہیں کبھی جرات نہ ہوتی۔کیونکہ سارے آریہ تو کیا سارے ہندو، سارے جینی ، سارے عیسائی اور سارے یہودی مل کو قرآن مجید کی کوئی ایک آیت تو ایسی دکھائیں جس میں قرآن مجید نے کسی مذہب کی طرف کوئی بات منسوب کی ہو اور وہ بات اس مذہب میں نہ پائی جاتی ہو۔قرآن مجید نے عیسائیوں کے متعلق کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں کہی جو عیسائیوں میں نہ پائی جاتی ہو۔قرآن مجید نے کوئی ایک بات بھی یہودیوں کے متعلق ایسی نہیں کہی جو یہودیوں میں نہ پائی بھاتی ہو۔بلکہ نہایت دیانت داری سے وہی باتیں ان کی طرف منسوب کی ہیں جو اُن کے مذہب