تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 202 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 202

194 دیں۔پس اگر حکم کا سوال ہو تو میرا نقطہ نگاہ تو یہ ہے کہ اگر میری پہلے تو میں کہوں گا کہ حکومت ہاتھ میں آنے پر بھی خلفاء اسے اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔انہیں اخلاق اور احکام قرآنیہ کے نفاذ کی نگرانی کرنی چاہیے یہ لے بت سيدة الصلح الموعود بیرونی دنیا میں تبلیغ خصوصاً ر کے احمدی طالب بلوں کو مرکز میں لانے کی ضرورت بر صغیر کے اندر اشاعت اسلام و احمدیت کا جال بچھا دینے کے لئے خاص طور پرمتفکر رہتے تھے۔اسی تعلق میں حضور نے وفتح ا دسمبر مہ ہش کو اپنی مجلس علم و عرفان میں اس رائے کا اظہار فرمایا کہ اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ صوبہ سرحد سے طالب علم قادیان میں آئیں۔ہم نے اس کے لئے بڑی کوشش کی ہے گروہاں سے ایسے طالب علم نہیں آتے جو تعلیم کے بعد مقدمت دین کریں۔جو آتے ہیں وہ اس طرف لگ جاتے ہیں کہ نوکریاں کریں۔صرف ایک مولوی چراغدین صاحب ہیں، باقی سارے پڑھنے کے بعد ملازمتیں کرنے لگ گئے ہیں۔صوبہ سرحد میں تبلیغ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مبلغ وہاں کا ہی باشندہ ہو جو وہاں کے رسم و رواج اور ان لوگوں کی عادات سے واقف ہو پنجابی مبلغ اس علاقہ میں اس طرح کام نہیں کر سکتا جس طرح کہ اس علاقہ کا باشندہ کر سکتا ہے اسے حکومت سندھ کی طرف سے ستیارتھ پرکاش کے سندھ گورنمنٹ نے مسلمان بن کے ملک گیر مظاہروں سے متاثر ہو کہ ھر نبوت او می شی چودھویں باب کی ضبطی اور حضرت سید اصلح الموعود را انیس آن می انداز کے وقت حکم مادری کر دیا کہ ستیارتھ پرکاش کی کوئی کاپی اس وقت تک چھاپی یا شائع نہ ہو جب تک چودھویں باب کو عزت نہ کر لیا بھائے۔اس اعلامیہ پر اگلے روز آریہ سماج وچھو والی اور آریہ سماج اتار کلی نے اس ضعیفی کے خلاف جلسے کئے جن میں آریہ مقرروں نے دھمکی دی کہ یہ حکم ملک میں بدامنی کا باعث بنے گا۔ایک ایک آریہ سماجی ستیارتھ پرکاش کی لکھنا کے لئے میدان میں نکلے گا۔اس کے بعد آریوں نے ایک اینٹی قرآن لیگ بھی قائم کر لی اور قرآن مجید کی ضبطی کا مطالبہ کرنے لگے اور ملک میں ہر طرف ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔سيدنا المصلح الموعود نے اور نبوت / نومبر ہ مہش کو اپنی مجلس علم و عرفان میں ستیارتھ پرکاش سے " الفضل" ۱۳ فتح او سمبر ۳۳ ده مش صفحه ۲-۳ " صفحه ۲ کالم ۲ به