تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 191 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 191

۱۸۵ میری شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔اس کی چھے میں نے اس کا ذکر مریم مرحومہ کے خاندان کے بعض افراد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اپنا خیال یہ ہے کہ مرحومہ کے گھر میں کوئی بڑا آدمی ضرور ہونا چاہئیے اور اس وجہ سے ہم میں سے بعض کی رائے یہی ہے کہ آپ اور شادی کر لیں تو اچھا ہے اور کہ اگر ہمارے ہی خاندان میں ہو جائے تو اور بھی اچھا ہے۔اس صورت میں بچوں کی نگرانی زیادہ آسان ہوگی۔تب میرا ذر من اس طرف گیا کہ ان کے خاندان میں بھی ایک لڑکی بشری نام کی ہے اور اتفاق کی بات ہے کہ بعض بیماریوں کی وجہ سے اس کی شادی اس وقت تک نہیں ہو سکی اور اس کی عمر بھی بڑی ہو گئی ہے اور اس لئے وہ بچوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کا کام زیادہ اچھی طرح کر سکے گی " سے اس سلسلہ میں حضور نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ افراد خاندان میں سے میری زیادہ بے تکلفی اپنی ہمشیرہ مبارکہ بیگم سے ہے ان سے میں نے ذکر کیا تو انہوں نے تذکرہ کے یہی الہامات مجھے سنائے اور کہا کہ میں تو خود آپ سے کہنا چاہتی تھی " سے الہامات کا تذکرہ کرنے کے بعد مزید بتایا کہ میں نے استخارہ کیا اور اپنے خاندان کے بعض افراد سے مشورہ کیا تو انہوں نے بھی یہی رائے دی کہ سیدہ ام طاہر احمد کے بچوں کے انتظام کے لئے اور شادی ہی ناسب میگی بالای این مجھ بھی اور نواب مبار کہ بیگم صاحبہ ، پر وفیسر بشارت الرحمن صاحب ایم اے، اور ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کو بھی واضح خواہیں اس رشتہ کی نسبت آئیں تو میں نے تحریک کے لئے سید ولی اللہ شاہ صاحب کو سیدہ بشری بیگم صاحبہ کے والد سید عزیز اللہ شاہ صاحب کی طرف بھیجوایا اور یہ بھی مشورہ دیا کہ لاہور میں اپنے برادر اصغر سید حبیب اللہ شاہ صاحب سے بھی ملتے جائیں۔لاہور پہنچنے پر ه روزنامه الفضل یکم ظہور اگست مش صفر ۲-۲۴ سلم الفضل ايضاً صفر کالم ۲۲ املا سے حضرت شاہ صاحب ان دنوں سنٹرل جیل لاہور کے سپرنٹنڈنٹ تھے مگر اسی سال کے آخر میں انہیں اس عہدہ سے ترقی دے کرو ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانجات پنجاب بنا دیا گیا۔مدیر و مالک اخبار پر تاپ نے ان کے اس نئے اعزاز پر یہ نوٹ لکھا:۔گیا۔شاہ صاحب احمدی ہیں اور میں آریہ سماجی۔باوجود اس کے میں انہیں اس ترقی پر مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اس کے مستحق ہیں۔بہت کم سپر نٹنڈنٹ ہیں جو ہر دلعزیزی کے میدان میں ان کا مقابلہ کر سکیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خدا ترس اور فرض شناس ہیں۔ان کی خدا ترسی انہیں کسی قیدی پر بیج سختی کی اجاز نہیں دیتی اور ان کی فرض شناسی اس بات پر تیار کرتی ہے کہ قواعد کی حدود میں رہ کر قیدیوں سے بہترین سلوک کیا جائے۔انسپکٹر جنرل جینا نجات جلد ریٹائر ہونے والے ہیں۔کیا معلوم کہ مجھے ایک بار پھر انہیں مبارکباد دینے کا موقع ہے دیر تاپ اسماء بحواله الفضل " در فتح دسمبر ر بیش صفحه و کالم ۳-۴) ۲۲۳