تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 180
16 کان پکڑ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پر حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ حضور کے غلام حاضر ہیں اور اس اکیلے لڑنے والے کی رُوستا تا کام نہیں رہے گی " لے مجلس مشاورت ۲۳ برس میں سے میش کی مجلس مشاورت ۷-۸-۹ شہادت / اپریل ۱۹۴۴ مد کو منعقد ہوئی جس میں دوسر ہے معاملات کے علاوہ خلیفہ وقت خلیفہ وقت کی حفاظت کا مسئلہ کی حفاظت کا ملہ بھی زیر بحث آیا اور حکیم خلیل امر صاحب مونگھیری ، چوہدری اعظم علی صاحب ، ملک عبد الرحمن صاحب خادم ، ماسٹر غلام محمد صاحب ، چوہدری مشتاق احمد صاحب با بوه ، موادی محمد احمد صاحب ثاقب ، شیخ نیاز احمد صاحب ، محمد عبد الله صاحب، سیدار تعفنی علی صاحب ، میاں غلام محمد صاحب اختر ، غلام حسین صاحب ، مولوی ظهور حسین صاحب ، پیر صلاح الدین صاحب ، پیراکبر علی صاحب ، مولوی ابوالعطاء صاحب ، بابو عبد الحمید صاحب، مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے اپنے اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کیا اور مختلف تجویزیں پیش کیں۔اس ضمن میں حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے فرمایا :- نظام خلافت کی حفاظت کے ساتھ مخلفاء کی حفاظت کا گہرا تعلق ہے جو قوم نظام مخلافت کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ مخلافت سے محروم ہو جاتی ہے۔حضرت ابو بکر کی حفاظت مسلمانوں نے کی۔اس لئے حضرت ابو کرین کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے انہیں پہلے سے زیادہ برکات دیں۔بعد میں آنے والے خلیفوں کے وقت میں خدا تعالے کی تائید اس پالیہ کی نہ تھی جس پایہ کی حضرت عمرض کے زمانہ میں تھی جب مسلمانوں نے غفلت کی تو تین دفعہ غفلت کے بعد مسلمانوں سے خلافت چھین لی حضرت خلیفہ المسیح ایده الله منصرہ العزیز کی حفاظت کے لئے دونوں قسم کے انتظامات کی ضرورت ہے۔رضا کارانہ اور با معاوضہ - رضا کارانہ حفاظت میں ہو سکتا ہے کہ کہ ہم گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ خالی رہ جائے۔انتظام کو مکمل رکھنے کے لئے تنخواہ دار پر بیداروں کی بھی ضرورت ہے پھر نظام خلافت قائم رکھنے کے لئے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ صرف یہی کافی ہے کہ بارہ یا پندرہ آدمی رکھ دیئے جائیں۔میرے نزدیک ۲۰۰ آدمیوں کا وجود بھی خلیفہ کی حفاظت کے لئے کافی نہیں ن " الفصل و ہجرت / مئی ۳۲ بیش صفحه ۴ + نے از و