تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 181
۱۷۵ اور نہ معلوم ہمیں کس وقت اس کے لئے ایک ہزار آدمیوں کی ضرورت ہو۔ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ خلیفہ کے وجود کو قائم رکھ کر نظام خلافت کی حفاظت کریں خواہ ایک سو آدمی اس کام پر متعین ہوں۔تب بھی ہم میں سے ہر شخص اس کے لئے بیقرار ہو اور وہ تہیہ کئے ہو کہ ہم نے خلیفہ کی حفاظت کر کے نظام خلافت کی حفاظت کرنی ہے " سے بال آخر کثرت رائے سے یہ قرار پایا کہ حضور کی خدمت میں سفارش کی جائے کہ حضور ما ہر اصحاب کی ایک کمیٹی مقرر فرمائیں جو حضور کی خدمت میں رپورٹ پیش کرے۔اس کا مالی حصہ بجٹ کمیٹی میں پیش کر دیا جائے محضور دو نوں رپورٹوں کے بعد اس کے متعلق خود فیصلہ فرما دیں " سے اس بحث کے دوران چونکہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود اجلاس میں تشریف فرما نہ تھے اس لئے چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے (جن کی زیر صدارت یہ کارروائی ہوئی تھی، یہ سفارش سیدنا حضر المصلح الموعود کی خدمت میں پہنچا دی جو حضور نے بھی قبول فرمالی اور ساتھ ہی ناظر صاحب امور عامہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور شیخ نیاز احمد صاحب المشتمل ایک کمیٹی بنادی۔اس کمیٹی کی رپورٹ کے بعد شیخ نیاز احمد صاحب نگران حفاظت مقرر ہوئے اور پہرہ داروں میں بھی اضافہ کیا گیا جس سے حضرت سیدنا المصلح الموعود کی حفاظت کا انتظام پہلے سے نسبتاً زیادہ عمدہ صورت میں قائم ہو گیا۔مرکز سلسلہ کی صوبہ پنجاب کے اضلاع کی متفرق اور کثیر جماعت میں ضلع وار نظام کا قیام جماعتوں کی براہ راست نگرانی کا مسئلہ روز بروز مشکل اور پیچیدہ ہو رہا تھا۔اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے مجلس مشاورت اش کی تجویز پر ضلع دار نظام کے قیام کا فیصلہ فرمایا ، ور اس نئی سکیم کے تجربہ کے لئے سب سے پہلے گورا ہو لاہور ، لائل پور ، گجرات ، گویزا تواله ، سرگودها ، فیروز پور ، سیالکوٹ ، بجالندھر اور ہوشیار پور کے اضلاع تجویز کئے گئے۔ضلع و ار نظام کے حسب ذیل فرائض قرار پائے :- رپورٹ مجلس مشاورت ش صفحه ۶۲ ۱۶۳ که ایضاً صفحه ۹۶۵