تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 179
۱۷۳ کا ئیں مطالعہ نہیں کرتا یا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ باتیں میرے ذہن میں آئی ہوں اور اُس جو نیل کے لئے دعائیں نہ نکلتی ہوں۔اُس کے خون کے قط ے آج بھی سپین کی وادیوں میں ہم کو آوازیں دیتے ہیں کہ آؤ اور میرے خون کا انتقام لو۔بیشک وہ بہادر جرنیل مر گیا۔مگر مرنا ہے کیا ؟ کیا یوں لوگ نہیں کرتے ؟ کیا وہ بادشاہ اور جو نہیں جو دشمن سے نہ لڑے کر نہ گئے ؟ وہ بھی ضرور کر گئے لیکن ان کے لئے ہمارے دلوں سے لعنت نکلتی ہے اور اس جرنیل کے لئے دعائیں۔پیچ بھی اس کی کشش ہمیں سپین کی طرف بلا رہی ہے اور اگر مسلمانوں کی غیرت قائم رہی اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے ظاہر ہوتا ہے نہ صرفت قائم نہ ہیگی بلکہ ترقی کرے گی اور پہلے سے بھی بڑھ کر ظاہر ہوگی تو وہ دن دور نہیں جب اس جو نیل کے خون کے قطروں کی بیکار ، اس کی جنگوں میں چلانے والی روح اپنی کشش دکھائے گی۔اور سچے مسلمان پھر سپین پہنچیں گے اور وہاں اسلام کا جھنڈا گاڑ دیں گے۔اس کی روج آج بھی نہیں بنا رہی ہے۔اور بہاری رو میں بھی یہ پکار رہی ہیں کہ اے شہید وفا! تم اکیلے نہیں ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دین کے سچے عادم منتظر ہیں جب خدا تعالے کی طرف سے آواز آئے گی وہ پر وانوں کی طرح اس ملک میں داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو وہاں پھیلائیں گے۔یہ سوال نہیں کہ ہم امن پسند جماعت ہیں۔مخالف امن پسندوں پر بھی تلوار کھینچ کر اُن کو مقابلہ کی اجازت دلوا دیا کرتے ہیں۔کیا محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم امن پسند نہ تھے۔مگر مخالفین کے فلموں کی وجہ سے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو مقابلہ کی اجازت دے دی۔جیسا کہ فرمایا أُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِير جن لوگوں کو خواہ مخواہ نشانہ مظالم بنایا گیا ہے اب ان کو بھی اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔پس سپین کے لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یوں مقدر ہے تو ہماری تبلیغ و تعلیم سے ہی کفر و شرک کو چھوڑ دیں گے اور یا پھر ہم پر اتنا ظلم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقابلہ کی اجازت ہو بھائے گی اور وہ جنہوں نے کان پکڑ کر مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکالا تھا له سورة الحج آیت ۴۰ *