تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 171 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 171

144 جب میں نے اس کالج کا نقشہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے حضور پیش کیا تو آپ مسکرائے اور فرمایا کہ اتنا بڑا کالج بنانے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں۔میں تمہیں ایک لاکھ روپیہ کالج کے لئے اور پچاس ہزار روپیہ ہوسٹل کے لئے دے سکتا ہوں۔اور یہ نہیں کرنے دوں گا کہ کالج کی بنیادیں اس نقشہ کے مطابق بھر لو اور پھر میرے پاس آجاؤ کہ جی! آپ کا دیا ہوا لاکھ روپیہ خرچ ہو گیا ہے۔کالج کی صرف بنیادیں بھری گئی ہیں تکمیل کے لئے اور پیسے دے دو پس انجنیر سے مشورہ کر کے اس نقشہ پر سُرخ پنسل سے نشان لگواؤ کہ ایک لاکھ سے بلڈنگ کا اتنا حصہ بن جائے گا وہ میں نے تم سے بنا ہوا لے لیتا ہے۔میں نے اس وقت جرات سے کام لیتے ہوئے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ ٹھیک ہے میں حضور سے پیسے مانگنے نہیں آیا ، نقشہ منظور کرانے آیا ہوں اس کے لئے حضور دعا فرماویں۔میں لکیریں لگوا کر لے آؤں گا۔لیکن مجھے اجازت دی جائے کہ جماعت سے عطایا وصول کر سکوں۔حضور نے فرمایا۔ٹھیک ہے عطا یا وصول کرو لیکن لکیریں ڈلوا کر لاؤ۔میں نے نقشہ پر مشورہ کرنے کے بعد لکیریں ڈالیں۔پھر حضور کی خدمت میں پیش کیا۔تب حضور نے منظوری دی کہ کام شروع کر دو لیکن اس کے بعد نہ مجھے یاد رہا کہ وہ لکیریں کسی حصہ پر ڈالی گئی تھیں نہ حضور کو یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ لکیریں کہیں اور ڈالی گئی تھیں اور کالج کا پی ٹی زیادہ ہو گیا ہے اور رقم کا مطالبہ کہ یہ ہے ہو۔تو اللہ تعالیے ہر مرحلہ پر آگے بڑھنے کی توفیق دیتا چلا گیا۔جب ہم ایک جگہ پہنچتے تو میں اپنے ساتھیوں کو جو تعمیر کر رہے تھے کہ دیتا کہ اگلا کام بھی شروع کر دو جب وہ حصہ بن جاتا تومیں کہتا کہ اب اگلا حصہ بھی بنا لو۔میں شاہد ہوں اس بات کا اور پورے یقین اور وثوق کے ساتھ آپ کو یہ بات بتا رہا ہوں کہ آجتک مجھے (جو خرچ کرنے والا تھا ، پتہ نہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی جیسا کہ آپ بھانتے ہیں سب آمد خوانہ میں جاتی ہے اور سب خرج چیکوں کے ذریعہ ہوتا ہے لیکن کبھی ہم نے اس کو سمیٹا نہیں۔یہ کالج کی عمارت ، ہوسٹل اور دوسری بلڈنگیں ہیں وہ سب ملا کر ایک لاکھ مرتع نٹ سے اوپر ہیں اور میرارت اندازہ ہے کہ ان پر چھ سات لاکھ سے پہیہ کے درمیان خرچ آیا ہے۔بعض دفعہ اچھے پڑھے لکھے غیر از جماعت دوست آتے ہیں اور ان سے بات چیت ہوتی