تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 167
۱۶۲ ہے کہ ربوہ کی تضاد آجکل کی شہری آلودگیوں سے قطعی طور پر محفوظ ہے اور وہ ترغیبات بالکل مفقود ہیں جو تہ بیت اخلاقی میں حائل ہو کر تعلیم کے بلند تصورات کو یہ باد کر دیتی ہیں۔اللہ تعالئے اس درسگاہ کو پاکستانیوں کیلئے زیادہ سے زیادہ مفید و با برکت بنائے اور اس کے کار پردازوں کو بیش از پیش سعی و بعد یہ ہے کی توفیق عطا فرمائے۔دیوه از فروری سنشه عبد المجید سالک جناب عبد الحمید صاحب دوستی وزیر تعلیم مغربی پاکستان تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی اسلامی روایات قابل تقلید دستائش ہیں پرنسپل میاں ناصر احمد کی مساعی ادارے کی ہر نوع میں تعمیر کے متعلق مبارکباد کی مستحق ہیں۔ادارہ سے سیکھے معائد سے مجھے بہت اطمینان اور راحت نصیب ہوئی ہے۔اللہ تعالے اس درسگاہ کو برکتیں عطا فرمائے۔عبد الحمید دوستی ار مارچ سٹے ھو تعلیم الاسلام کالج اور متعلقہ اداروں کو دیکھ کر ہمیں روحانی مسرت حاصل ہوتی ہے۔چند سالوں میں یہاں جس تیز رفتاری اور خوش اسلوبی سے توتی ہوئی ہے وہ کارکنوں کے خلوص، بلند ہمتی اور استقلال کا نتیجہ ہے۔توقع ہے کہ یہ جگہ تھوڑے ہی برسیمے میں ہمارے ملک کی ایک معیاری اور قابل رشک جگہ ہوگی" فصل من فتم کالج کے کئیں اردو میں ماؤں کی برک سے آسمانی فرقوں کے موج ہو تا ہے ؟ حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب مئی ہجرت ر ش سے لے کر مہر نبوت / نومبر تک کالج کے سربراہ رہے۔ازاں بعد مخدائے عزوجل کی طرف سے آپ کو دُنیا بھر کی تعلیم و تربیت اور راہ نبھائی کے لئے منصب خلافت پر سرفراز فرما دیا گیا۔آپ کے اکیس سالہ تعمیری و اصلاحی دور قیادت میں اس درسگاہ نے انتہائی نا موافق اور پر خطر حالات اور بے حد مشکلات کے باوجود جو فقید المثال ترقی کی وہ بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم