تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 160 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 160

۱۵۵ پاکستان کے ممتاز ہا ئیکر تھے آپ کے بے حد معتقد تھے۔شعبے قومی اور ملی فرائض کی بجا آوری بلکہ پوری زندگی کو صحیح صحت جسمانی کیلئے مختلف اہم شے معرق برگزارنے کے لئےصحت جسمانی کا خیال نکن از حد ضروری ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے طلبہ کی تربیت کے دوران اس سنہری اصول کو نہ صرف مد نظر رکھا بلکہ اسے ہمیشہ ہی خاص الخاص اہمیت دی چنانچہ آپ نے ۳۰-۱۳۲۹ امیش کی ساتھ رپورٹ میں اپنا مخصوص اور بلند نقطہ نگاہ مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمایا :- ایک نوزائیدہ مملکت اگر ترقی کی دوڑ میں ترقی یافتہ ممالک سے بازی لینا چاہتی ہے تو اس کے افراد پر سعی پیہم اور مستقل بعد و جہد کی بھاری ذمہ داری پڑتی ہے۔اور لگاتار محنت کرتے چلے جانا جذبہ متلی اور مضبوط و توانا جسموں کے بغیر ممکن نہیں۔تمام بیدار ممالک اپنی قوم کی صحت کی طرف خاص توجہ دیتے ہیں اور عام اندازہ کے مطابق ان ممالک کا جتنا روپیہ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے اسی کے لگ بھگ رقم وہ ورزشوں وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں۔اگر ہم نے بھی دُنیا میں ترقی کرتی ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں۔بوجہ غربت ہم ان کے لئے پوری خوراک مہیا نہیں کر سکتے۔لیکن غربت کے باوجود بھی صحیح ورزش انہیں کروا سکتے ہیں۔یہ مہاجر ادارہ طلباء کے اس شعبہ زندگی کی طرف بھی خاص توجہ دیتا رہا ہے۔بہت سے غریب بچوں کو مفت دُودھ دیا جا رہا ہے اور عام طور پر یہ کوشش رہی ہے کہ تمام طلبہ ورزش کے ذریعہ سے اپنے جسموں کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے رہیں " سے حضرت میرزا ناصر احمد صاحب ( ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے کالج میں عسکری تربیت کا خاص اہتمام کرنے کے علاوہ مجلس سیاحت کا قیام فرمایا اور تیز والی بال ، بیڈ منٹی کبڈگا ، فٹ بال۔۔۔۔۔وغیرہ مختلف کھیلوں کو خاص طور پر رواج دیا اور کشتی رانی اور باسکٹ بال کو اوج کمال تک پہنچانے میں اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کر دیں۔طلباء کو تین نصائح حضرت صاحبزادہ مرزا ناصراحمد صاحب ( ایدہ اللہ تعالے طلباء کی اخلاقی، روحانی اور علمی رہنمائی کے لئے ہر دم کوشاں رہتے اور وعظ و نصیحت کے ہر اہم " زین ل المثال شہادت / اپریل ۱۳۳۴ ش صفحه ۱۵+