تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 138 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 138

۱۳ نام ارسال فرمایا تھا۔ازاں بعد حضرت مصلح موعود کا رقم فرمودہ ادبی مقالہ اردو رسائل زبان کی کس طرح مدیریت کر سکتے ہیں ؟ " کے موضوع پر پڑھا گیا۔حضور کا یہ قیمتی مقالہ بر صغیر پاک و ہند کے ادیب شہیر احسان اللہ خاں تاجور نجیب آبادی نے اپنے رسالہ ادبی دنیا " ( مارچ سنہ) میں حضور کا فوٹو دے کر شائع کیا تھا۔اس زمانہ میں رسالہ ادبی دنیا " کے نگران اعلیٰ سر عبد القادر مرحوم تھے۔اس یادگار مقالہ کے بعد جو گویا اس پوری کا نفرنس کی روح رواں تھا۔وزیر آغا ایم۔اے پی۔ایچ۔ڈی نے اپنا فاضلانہ خطیہ افتتاح پڑھا جس میں تعلیم الاسلام کا ن کو ادبی کانفرنس منعقد کرنے پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا :- اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے یوں تو بہت سے اقدامات ضروری ہیں لیکن اس سلسلہ میں اُردو کا نفرنسوں کا انعقاد ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ہمارے ملک میں بالعموم ہر تحریک نہ صرف بعض بڑے ثقافتی مراکز سے جنم لیتی ہے بلکہ پر وان چڑھنے کے بعد وہیں کی ہو کہ رہ جاتی ہے اس سے تحریک میں وہ کشادگی اور وسعت پیدا نہیں ہوتی جو اس کی پوری کامیابی کے لئے نہایت ضروری ہے۔اردو زبان کی ترویج کے سلسلہ میں جو تحریکات وجود میں آئیں وہ عام طور پر لاہور اور کما چی ایسے مراکز ہی سے وابستہ ہیں تعلیم الاسلام کا لی نے اس انجماد کو توڑا ہے، اور اردو کا نفرنس کے انعقاد سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اب اردو کے لئے محبت اور اردو کو قومی زبان کا درجہ دینے کی آرزو بڑے بڑے مراکز تک ہی محدود نہیں رہی گویا اس خوشبو کی طرح جو دیوار چین کو پارہ کرتی ہے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کی تحریک بھی اونچی اونچی دیواروں کو پار کر کے افق کے پہاڑوں سے آٹکرائی ہے۔مجھے یقین ہے کہ آپ نے جو مبارک قدم اُٹھایا ہے اس کی ملک کے طول و عرض میں عام طور سے تقلید ہوگی اور ہم اردو زبان کو ملک کے دُور دراز گوشوں تک پہنچا سکیں گے۔آپ کی یہ اردو کا نفرنس اس لئے بھی اہم ہے کہ اس کے پس پشت اُردو زبان کے لئے بے پناہ محبت کے سوا کوئی اور جذبہ موجزن نہیں ہے اور آپ نے پنجاب کے اس دیہاتی علاقہ میں منعقد کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اُردو زبان پنجاب کے دور دراز گوشوں میں بھی ویسی ہی مقبول ہے جیسی کہ اردو کے بڑے بڑے مراکز میں مجھے یقین ہے کہ آپ نے اُردو کا نفرنس کے منعقد کرنے کی جو روایت قائم کی ہے اسے ہمیشہ بھاری رکھیں گے اور مجھے امید ہے کہ ہمارے ملک کے دوسرے ادارے اس