تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 134
1۔در امضا در اکتوبر پر رش کو وائی۔ایم بسی۔اسے کی مشہوبہ بھارتی ٹیم کراچی ، لاہور اور راولپنڈی کے علاوہ ربوہ میں بھی میچ کھیلنے کے لئے آئی۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ ربوہ کو بیرون ملک کھلاڑیوں سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ان پیش از پیش کامیابیوں کے نتیجہ میں ربوہ باسکٹ بال کے تین چار اہم ترین ملکی مراکز میں سے شمار ہونے لگا۔اور چونکہ ملک میں باسکٹ بال کو غیر معمولی طور پر فروغ دینے میں تعلیم الاسلام کالج کے منتظمین خصوصاً حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا بھاری عمل دخل تھا اس لئے پانچویں سالانہ ٹورنا منٹ پر امیچیور یا سکٹ بال ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کمیٹی کی طرف سے ایک وفد جو ایکٹنگ چیئر مین چوہدری محمد علی حساسیت ایم۔اے) اور سکرٹری قریشی محمد اسلم صاحب ایم۔انہیں سی ) پر مشتمل تھا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ باسکٹ بال کے کھیل کی مقبولیت اور ترتی کے سلسلہ میں آپ نے جو خامات جلیلہ انجام دی ہیں، ان کی وجہ سے ایسوسی ایشن سچاہتی ہے ، کہ آپ پریذیڈنٹ کا عہدہ قبول فرمائیں۔اگرچہ قبل ازیں کئی بار آپ یہ درخواست قبول کرنے سے معذوری کا اظہار فرما چکے تھے مگر اس مرتبہ آپ نے از راہ شفقت پریذیڈنٹ وننا منظور فرما لیا، چنانچہ آپ ماہ نیوت او بر این اش یعنی منصب خلافت پر فائز ہونے تک ایسوسی ایشن کے صدر رہے اور ہمیشہ بلا مقابلہ منتخب ہوتے رہتے۔پانچواں آل پاکستان ٹورنامنٹ پہلے سے بھی زیادہ شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوا۔اس دفعہ کھیل پہلی بار رات کے وقت پھلی کی روشنی میں ہوا۔اور کلب سیکشن میں کراچی یونیورسٹی ، زرعی یونیورسٹی اینر فورس کی ٹیمیں پہلی بار شامل ہوئیں۔ایسوسی ایشن کے نمائندے، انتظامیہ کے ممبر اور پنجاب ٹیم کی انتخابی کمیٹی کے تمام ارکان کے علاوہ مدر و نزدیک سے سینکڑوں شائقین نے نہایت دلچسپی اور دلجمعی سے کھیل دیکھا ے یاد رہے پر ش سے لیکر تبوک استمبر پر پیش یک تعلیم الاسلام کا لج باسکٹ بال کی صدارت کے فرائض پر وغیر تصار احمد خاں صاحب نے انجام دیئے آپ کی انگلستان کو بری تعلیم روانگی پر پروفیہ چوہدری محمد علی صاحب نے اس کی باگ ڈور سنبھال لی اور نہایت محنت اشوق اور کامیابی کے ساتھ اُسے پہلا رہے ہیں : حضرت صاحب زادہ صاحب ایدہ الہ تعالے نے ٹورنا منٹ میں نظم وضبط اور انصاف کے قیام کے لئے ہو گیا تقدر مساعی کیں ان کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔بطور نمونہ صرف ایک واقعہ پر و غیر نصیر احمد تمال صاحب کے قلم سے درج کیا۔جاتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ " ایک سالانہ ٹورنامنٹ کے موقعہ پر جبکہ ملک کی دوشہ ور ٹیمیوں کے درمیان سخت مقابلہ ہو رہا تھا اور ہار جیت کا فیصلہ ایک ایک پور آئنٹ سے بدل رہا تھا ایک ٹیم نے ریفری کے فیصلہ کے خلاف احتجاجا کھیل بند کر دیا اور ریفری کے فصیلہ کو ماننے سے انکار کر دیا۔خاکسار نے صورت حال سے آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ ریفری کی عزت اور وقار کو بحال رکھنا ہمارا فرض ہے۔اعلان کردو کہ پانچ منٹ کے اندر اندر ٹیم میدان میں آجائے ورنہ اُسے ٹورنا منٹ میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔یہ اعلان مویہ مشہور ہوا۔اور کھیل حسب سابق اطمینان کے ساتھ کھیلا جانے لگا "